ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

تحریک انصاف کا دھرنا،مصطفی کمال بھی میدان میں،کس کے ساتھ ہیں؟ اعلان کردیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی) پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ کے احتجاج پر حکومتی ردعمل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔عمران خان اور شیخ رشید نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا ہے جمہوریت میں احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا حق ہوتا ہے۔عوام کو جمہوریت ایوانوں اور اسمبلی میں نہیں بلکہ گلی کوچوں میں چاہیے۔ آپریشن کے ساتھ ساتھ مسائل کے لئے حل مذاکرات بھی ہونے چاہیے۔امن تب تک قائم نہیں گا جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے ہیں،اگر ملک میں مردم شماری ہو جائے تو بہت سی جماعتوں کی اصلیت سامنے آجائے گی۔حکمران ملک کو جس جانب لے کر جا رہے ہیں کیا یہ اصل جمہوریت ہے۔پاکستان میں قانون غریبوں کے لئے الگ اور امیروں کے لئے الگ ہے۔ ریلیاں نکالنے سے شہر کسی کے نہیں ہوجاتے ہیں اس کے لئے کام کرنا پڑتا ہے۔ملک کا سب سے بڑا شہر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔اگر کراچی کے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو ہم احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔پی ایس پی جلد ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم کے تحت جلسوں کا اہتمام کر ے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کونور گراؤنڈ پی ای سی ایچ ایس میں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رضا ہارون،وسیم آفتاب،ڈاکٹر صغیر احمد ،آصف حسنین اور دیگر بھی موجود تھے۔سانحہ ناظم آباد کے باعث شرکاء نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ پاک سر زمین پارٹی کے قیام کو ابھی 7 ماہ ہی ہوئے ہیں۔کراچی اور حیدر آباد ، میر پور خاص اور سندھ کے تمام شہروں میں اس کا تنظیمی اسٹریکچر قائم ہو چکا ہے ۔پی ایس پی سندھ سے نکل کر ملک بھر میں قائم ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس پی عوام کے دلوں کی دحڑکن بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پرواز میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا ہے۔ہمارے اعمال اور کرتوں سے ہماری پرواز میں خلل پڑے گا۔میں کارکنان سے کہتا ہوں کے وہ لوگوں سے اچھا برتاؤ کریں اور اپنی نیت صاف رکھیں۔انہوں نے کہا کہ جو کارکنان اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکتا ہے وہ پی ایس پی چھوڑ دے۔میں کسی کو پارٹی پر دھبہ لگانے کی اجازت نہیں دوں گا۔ہم صرف اللہ کی رضا کے لئے نکلے ہیں اور اپنی کشتیاں جلا دی ہیں۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہم نے فر عونیت کے آگے حق کی آواز بلند کی ہے ،اللہ کے سوا ہم کسی سے نہیں ڈرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ہدایت کرتا ہوں کے کسی کے سامنے ہتھیار نہیں اٹھانا ۔کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا ہے اور صرف کتاب اور قلم اٹھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ہو یا ایم کیو ایم حقیقی ہو یا سندھی بلوچی پٹھان ،پنجابی سب سے محبت اور دوستی کرنی ہے۔کامیابی اور ناکامی ہمارے اختیار میں نہیں ہے ہمیں صرف سچ بولنا ہے اور حق کی بات کرنی ہے

کامیابی خود ہمارے قدم چومے گی۔انہوں نے کہا کہ آج 70برسوں بعد بھی سنا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے ۔یہ کیسی جمہوریت ہے جو 18 برسوں سے ملک میں مردم شماری نہیں کرا سکی۔نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں کو خطرہ ہے کہ مردم شماری سے ان کی سیٹیں آگے پیچھے ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی کا تناسب مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے اور جمہوریت کے علمبرداروں کو خطرہ ہے کہ حقیقت کا پردہ چاک ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اربوں کھربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہے کہ ملک کی اصل آبادی کتنی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک اصل آبادی کا معلوم نہیں ہوگا تو وسائل کی تقسیم کیسے ہو گی ہزاروں اربوں روپے بغیر کسی سوچ اور منصوبے کے تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کئی بار احکامات دئیے کہ مردم شماری کرائی جائے لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔انہوں نے کہا کہ ہر سال ملک میں ساڑھے 3 لاکھ بچوں کی اموات ہو رہی ہے جس کی وجہ صاف پانی نہ ملنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دہشت گرد کسی جگہ حملہ کرتے ہیں اور معصوم شہریوں کوشہید کرتے ہے لیکن معصوم بچے بغیر کسی وجہ سے غزائیت کی کمی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ بچہ ذہنبی اور جسمانی طور پر معذور ہو چکا ہے۔ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔ایک بڑی تعداد پر ائمری میں اسکول چھو ڑ دیتی ہے۔جس کی وجہ سے ہمارے ہاں جاہل معاشرے کا قیام عمل میں آرہا ہے۔ہم پاکستان کو کس جگہ لے گئے ہیں لیکن پھر بھی جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ملک میں انصاف نہیں مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے تحت پاک فوج ملک کے کونے کونے میں دہشت کے خلاف صف آرا ہے۔جمہوریت کے علمبرداروں سے پوچھتا ہوں کے وہ آرمی آپریشن سے کیا حتمی امن قائم کر سکتے ہیں۔امن تب تک قائم نہیں ہوگا جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک بزرگ نے پنشن نہ ملنے پر جان دے دی ۔نوجوانوں کو بے روزگاری کی وجہ سے برین ہمبرج ہو رہا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا معاشی حب کراچی ہے جو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو کر کھنڈر بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے احتجاج کی کال دے رکھی ہے ،شیخ رشید اور عمران خان سیاسی رہنما ہیں اس لئے انہیں احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے ۔شیخ رشید اور عمران خان نے کسی بھی موقع پر قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا ہے جبکہ حکومت نے اپنا ایکشن شروع کر دیا ہے جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں اسلام آباد کے راستوں سے کنٹینر ہٹاے جائیں اور انہیں کھولا جائے جس کی وجہ سے شہری مشکلات کا شکار ہیں اور گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہم حکومتی عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جمہوریت میں احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا کچھ نہ کرے کہ کل ان کے ساتھ بھی ایساہو۔انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت ثمر ایوانوں کے بجائے گلی محلوں میں نظر آئے جہاں لوگوں کو تمام بنیادی وسائل حاصل ہوں۔انہوں نے کہا کہ پرونشنل فنانس کمیشن قائم کیا جائے تاکہ این ایف سی ایوارڈ کی سہی تقسیم ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تین بڑے اداروں کی وجہ سے 7 سو 5 ارب روپے کا خسارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کی دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک سانحہ کے بعد دوسرے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری اقدامات کئے جانے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ریلیاں نکالنے سے شہر کسی کے نہیں ہوجاتے ہیں اس کے لئے کام کرنا پڑتا ہے اور عوام کے مسائل حل کرنا پڑتے ہیں۔پاک سر زمین پارٹی چھوڑ کرجانے والوں کی دعوت کریں گے اور عزت سے رخصت کریں گے کسی کو روکیں گے نہیں اور نہ ہی کسی کو گن پوائنٹ پر پارٹی میں شامل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کارکنان سے کہتا ہوں کہ وہ ایم کیو ایم والوں سے اچھا سلوک کریں جبکہ ان کی تعداد شہر میں بہت تھوڑی رہ گئی ہے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…