جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

فارو ق ستار نے حکومت کو 11مطالبات پیش کردیے

datetime 18  اکتوبر‬‮  2016 |

کراچی(آئی این پی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کنونشن میں11 مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سندھ میں بہتری کی صورتحال پیدا کرنا مقصود ہے اور حقداروں کو حق دینا ہے تو پھر احساس محرومی کے خاتمے اورناانصافیوں کے ازالے کے لیے ہمارے مطالبات منظور کیے جائیں،فاروق ستار کی جانب سے پیش کردہ مطالبات میں کہا کہ بے قصور پْر امن سیاسی کارکنوں کے خلاف بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔لاپتہ کارکنان کوایک ایک کرکے ماورائے عدالت قتل کرنے کے بجائے 130لاپتہ کارکنان کوبازیاب کرایاجائے۔یہ جن کی بھی تحویل میں ہیں انھیں منظر عام پرلایاجائے،ہمارے ساتھی ایک ایک 2,2سال،6،6ماہ سے لاپتہ ہیں جوسوالیہ نشان ہے۔ماورائے عدالت قتل کیے گئے کارکنوں کے قتل کی جوڈیشل انکورائری کرائی جائے اورجنھوں نے یہ قتل کیے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے، بے گناہ سیاسی رہنما وکارکنان جن میں مئیرکراچی وسیم اختر،اراکین رابطہ کمیٹی عبدالرؤف صدیقی، کنور نوید جمیل، شاہد پاشا، قمرمنصور،گلفرازخان خٹک،ایم پی اے شیراز وحید، اور ان کیساتھ ساتھ جتنے اسیرہیں سب کو رہا کیا جائے۔جوڈیشل کمیٹی بنائی جائے، اْن پرجھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں جن کا خاتمہ ہوناچاہیے۔خورشیدبیگم سیکریٹریٹ ہال،ایم پی اے ہاسٹل اوردیگرتحریکی اثاثے و املاک فی الفور واپس کیے جائیں اورہمیں خورشیدبیگم میموریل سے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔کوٹہ سسٹم آئینی طورپر2013ء4 میں ختم ہوچکاہے اس کے باوجودحقوق پرڈکیتی ہورہی ہے ،سندھ شہری ودیہی کی تقسیم ختم کی جائے۔ روزگار میں انصاف کیاجائے، سوادولاکھ نوکریاں پی پی کے ورکرزکودی گئی ہیں90ہزارشہری علاقوں کے عوام کودی جائیں توہم تقسیم کی بات کاتصوربھی نہیں کرینگے،ایک لاکھ نوکریاں میں پولیس میں دی جائیں جس میں50ہزارکراچی اورباقی دیگرشہری علاقوں کے نوجوانوں کودی جائیں۔منصفانہ مردم شماری کرائی جائے،اگرمنصفانہ مردم شماری ہوگی توسندھ کی تقسیم کا فتنہ ہی ختم ہوجائے گا۔سرکلرریلوے اورٹرانسپورٹ کامربوط نظام لایاجائے, اگریہ کام پی پی پی حکومت نے نہ کیاتوہم ارشدوہراکوکہیں گے، وہ سرکلرٹرین منصوبے کوبھی عملی جامہ پہنائینگے۔کے فور(K۔4)کومکمل کیا جائے، 65 بی بی کی لائن کامنصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے اورعوامی فلاح وبہبودکے منصوبے جوپائپ لائن کی نذر ہیں سردخانے سے نکال کران پرکام شروع کیاجائے۔بلدیاتی اداروں کے اختیارات جوسلب کرلیے گئے ہیں بحال کیے جائیں،میئرزکو2001کے اختیارات دیے جائیں،بلڈنگ کنٹرول ،ماسٹرپلان سمیت تمام محکمے واپس کیے جائیں، اختیارات کی کٹوتی برداشت نہیں کریں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…