پاکستان کو کشمیر پر بات کرنے کا حق نہیں ۔۔۔ طویل عرصہ تک کشمیر کمیٹی کے چیئر مین رہنے والے فضل الرحمنٰ کے بیان نے ہنگامہ کھڑا کر دیا

  منگل‬‮ 4 اکتوبر‬‮ 2016  |  11:03

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) کشمیر کمیٹی کے طویل عرصہ تک چیئرمین رہنے والے اور جمیعت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولوی فضل الرحمنٰ نے  کشمیر سے متعلق ایسا بیان دے ڈالا ہے کہ جس سے بھارتی لابی خوشی سے نہال ہو گئی ہے ۔ آل پارٹیز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے علاقے فاٹا میں حالات کشمیر سے زیادہ خراب ہیں۔ ایسے خراب حالات کے پیش نظر پاکستان کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ کشمیر کی بات کریں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس جو کہ کشمیر میں


بھارتی مظالم ، اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ اور دھمکیوں کی صورتحال پر غور کرنے کے لئے بلائی گئی تھی ، اس میں امیر جمیعت  علمائے اسلام (ف) نے الٹی ہی بات کہہ دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ فاٹا میں عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں  اور عوام شدید ترین مشکل حالات کا شکار ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے چینی کا خاتمہ کرنے پر توجہ دی جائے ۔ ان کے اس بیان پر اے پی سی میں موجود تمام پارٹیوں کے رہنما  حیران رہ گئے اور انہوں نے فضل الرحمن کے اس بیان پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو پورا پاکستان اور پوری دنیا کشمیر پر ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف ایک پیج پر ہے جبکہ دوسری جانب فضل الرحمن نے بالکل ہی الٹی بات کہہ کر بھارتیوں کے موقف کی تائید کر دی ہے ۔ واضح رہے کہ اس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے بھی پانامہ پیپرز کا ذکر چھیڑ دیا تھا اور قومی اتحاد کے لئے پانامہ پیپرز کا معاملہ پہلے حل کرنے کا کہا تھا ۔ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر غور کرنے کے لئے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے براہ راست نواز شریف کو مخاطب کر کے پانامہ پیپرز کا قصہ چھیڑ دیا۔ نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا مالیاتی سیکینڈل ہے اور اس معاملے  کو حل کئے بغیر ملکی اتحاد کا خواب پورا نہیں ہو سکتا ۔ واضح رہے کہ اک بھارت حالیہ کشیدہ صورت حال بھارت کی جانب سے مسلسل جارحیت ، آبی ذخائر کی بندش سمیت دیگر مخاصمانہ اقدامات کا جائزہ لینے اور ان کا جواب دینے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے وزیراعظم  میاں محمد نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور نمائندوں کو مدعو کیا ہے ۔وزیر اعظم ہاؤس میں جاری اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے لئے اٹھ کر سائیڈ روم میں آگئے ہیں۔ جہاں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ اختلافا ت کے باوجود کشمیر کےمعاملے پر پاکستانی حکومت کے ساتھ ہیں اور بھارتی جارحیت پر ہمارا اور حکومت کا موقف سب پاکستانیوں کی طرح ایک ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت پر وزیر اعظم نواز شریف کے شانہ بشانہ ہیں۔ بھارتی جارحیت سے متحد ہو کر ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں پاک بھارت تعلقات ٹرننگ پوائنٹ ہیں۔ متحد پاکستان ہی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔قومی سلامتی کے مقاصد مل کر کام کرنے سے ہی حاصل ہوں گے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی تمام پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں اسلام آباد میں جاری ہے جس میں بھارت کی جانب سے پیدا کردہ  صورتحال پر غور وغوض کیا جا رہا ہے ۔  


موضوعات: