جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی وزیر اعظم کی پاکستان کےخلاف میٹنگز کے وقت پاکستانی وزیراعظم کی کیا مصروفیات تھیں؟ سینئر صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات ، ہنگامہ کھڑا ہو گیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندرا سنگھ مودی کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے ، سرحدوں پر مزید فوج بھیجنے اور سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں جبکہ اس کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم کی مصروفیات پر سینئر صحافی نے سوال اٹھا دیا ہے ۔

تفیصلات کے مطابق سینئر صحافی اور اینکر پرسن کاشف عباسی نے اپنے نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرامیں سوال اٹھایا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اس وقت پاکستان کو ہرلحاظ سے نقصان پہنچانے کے لئے پوری طرح سرگرم ہیں ،جس کے لئے وہ پاکستان کے خلاف سرحدوں پر سرجیکل سٹرائکس ، اقوام متحدہ اور سفارتی محاذ پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سندھ طاس معاہدہ ختم کر کے پاکستان کو بڑا نقصان پہنچانے کی فکر میں ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم  میاں محمد نواز شریف لندن اور امریکہ میں شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں اور انہیں ملک کے دفاع کا کوئی خیال نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معیاد ختم ہونے کے بعد اس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور بھارتی حکام کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا ، جبکہ بھارت کی جانب سے بگلیھار ڈیم سمیت کئی اہم مقامات پر پاکستانی دریاؤں کا پانی روک کر ڈیم بنائے جانے کے حوالے سے بھی سندھ طاس کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی جس پر پاکستان سندھ طاس کمیشن نے عالمی بنک سے رجوع کر لیا تھا۔ عالمی بنک کے حکام کو پاکستان کے اٹارنی جنرل اظہر اشرف علی کی سربراہی میں پاکستانی حکام کا وفد عالمی بنک کے حکام سے واشنگٹن میں ملا۔ جس میں پاکستانی وفد نے سندھ طاس معاہدے پر بھارتی خلاف ورزیوں ،بیانات اور دیگر حوالہ جات کی مدد سے عالمی بنک کو اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے دریائے نیلم اور چناب پر ڈیم بنائے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا جس کے بعد عالمی بنک کی جانب سے پاکستانی حکام کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جاری اس معاملے پر عالمی بنک مکمل غیر جانب داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…