جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

فیس بک پہ پوسٹ کیا کی گناہ ہو گیا ۔۔۔ غداری کا مقدمہ درج

datetime 18  اگست‬‮  2016 |

سرینگر(این این آئی)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں فیس بک پرآزادی کے حق میں پوسٹ جاری کرنے پر غدار ی کے مقدمے کے تحت گرفتار کئے گئے سوپور کے نوجوان کو مقامی عدالت میں پیش کیاگیا ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے سوپور کے رہائشی نوجوان توصیف احمد بٹ کو 5 اگست کو فیس بک پر آزادی کشمیر کے حق میں اور بھارت کے خلاف پوسٹ جاری کرنے پر گرفتار کر کے غداری کا مقدمہ درج کیاتھا ۔ توصیف کو گزشتہ روز مقامی عدالت میں پیش کیاگیا تاہم پولیس کی طرف سے چالان پیش نہ کرنے کی وجہ سے نوجوان کی ضمانت کی درخواست پر بحث نہیں ہو سکی ۔ توصیف کے وکیل راج کمار تیواری نے صحافیوں کو بتایا کہ انکے موکل کیخلا ف درگ تھانے میں رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 124Aکے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے۔ ادھربھارتی ریاست ہریانہ کے شہر گڈ گاؤں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے ایک گروپ نے ٹیلی فون پر سرینگر میں ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ بھارتی پولیس انہیں ہراساں کر رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کشمیرمیں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف جاری رواں انتفادہ کے ردعمل میں انہیں ہراساں کیا جارہا ہے ۔ مانسر اسکندر پورہ کے ایک ہوسٹل رہائش پذیر کشمیری طلباء نے بتایا کہ وادی کشمیرمیں جاری انتفادہ کے رد عمل میں ایسا کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شام ہو تے ہی پولیس ہوسٹل میں ان کے کمروں میں داخل ہو کرتلاشی لینا شروع کر دیتی ہے اور انہیں جو بھی کشمیری طالبعلم ملتا ہے اسکی وہ پٹائی شروع کر دیتے ہیں۔ ایک طالب علم نے کہا کہ پولیس کی یہ کارروائی گذشتہ دنوں سے جاری ہے اور ان کا سامان بھی باہر پھینک دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شدید خوف زدہ ہیں اور خود کوانتہائی غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں پولیس کے علاوہ مقامی طلباء سے بھی خطرہ ہے اور انہیں مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں۔دریں اثناء بھارتی ریاست اتر کھنڈ کے شہر دہرادون میں زیر تعلیم کشمیری طلباء نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری بدترین ظلم و تشدد پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری طورپر موبائیل فون اور انٹرنیٹ پر عائد قدغن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مقامی روزنامے گریٹر کشمیر کو موصول ہونیوالی ٹیلی فون کالز اور ای میلز کے ذریعے بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء نے کشمیر میں اپنے اہلخانہ کی سلامتی کے بارے میں شدید پریشانی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے انتظامیہ سے فوری طورپر موبائیل فون اور انٹرنیٹ پر عائد قدغن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…