بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

پانامہ کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن کو پچاس ارب کے منصوبے ۔۔! اہم ترین سیاسی رہنما نے ہلچل مچادی

datetime 6  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ بجٹ عوام کی بھلائی کیلئے نہیں بنایا گیا ہے ٗ ہم جان بوجھ کر الزام تراشی نہیں کرینگے ٗ حقائق ایوان میں پیش کرینگے ٗ 2018 ء میں بھی بجلی پوری نہیں ہوگی 147 میگا واٹ ، 430 چشمہ اور 430 چشمہ فور منصوبے مکمل ہو جائیں گے ٗجب ہم خود ملک میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے تو کوئی کیوں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے ؟پانامہ کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن کو چالیس پچاس ارب کے منصوبے مل گئے کچھ لوگ دعا کریں گے ہر سال پانامہ لیکس آئے ٗڈرون حملوں پر ہماری حکومت سے ا ستعفیٰ مانگنے والے آج کہاں ہیں ؟ہم میثاق معیشت کے ٹی او آرز بنانے کیلئے تیار ہیں مگر انشا اللہ ان ٹی او آرز پر بھی کوئی متفق نہیں ہو گا ٗ ملک میں ایمنسٹی اسکیم دینے کے باوجود ٹیکس نہ دینے والوں کو نیٹ میں نہ لانا حکومت کی ناکامی ہے ٗقومی احتساب بیور و کا شکار پیپلز پارٹی بنی ٗ ملک میں ایسا احتساب نہیں چلے گا ۔ پیر کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہر حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ان مشکل حالات میں یہ بجٹ بنایا ہے بجٹ میں کوئی ڈائریکشن نظر نہیں آتی کہ یہ بجٹ عوام دوست، مزدور دوست پاکستان دوست ہے ؟ کیا صوبے اس بجٹ سے خوش ہیں ؟ بجٹ میں نوجوانوں کے روزگار کیلئے کیا کچھ ہے ؟ مہنگائی کے سد باب کیلئے کچھ رکھا ہے ؟ یہ ساری باتیں ہمیں کنفیوژ کر رہی ہیں یہ بجٹ عوام کی بھلائی کیلئے نہیں بنایا گیا حکومت سارا سال پلان کرتی ہے ہم جان بوجھ کر الزام تراشی نہیں کریں گے ہم حقائق کو ایوان میں پیش کریں گے پاکستان ایک فیڈریشن ہے پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں ایک مضبوط فیڈریشن بنا کر اس حکومت کو پیش کی میثاق جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا کہ پاکستانی سیاست کو ہم نے کس طرح چلانا ہے ؟ہم نے 18 ویں ترمیم منظور کروا کر صوبوں کو بااختیار بنایا 18 سال سے جو این ایف سی ایوارڈ نہیں ہو رہا تھا اس کو طے کیا 58 ٹو بی کا بھی خاتمہ کیا پارلیمنٹ پر لٹکتی خطرے کی تلوار کا خاتمہ کیا 1270 بجٹ میں خسارہ شو کیا گیا ہے 2013-14 کے بجٹ میں نیلم جہلم چشمہ نیوکلیئر تربیلا کراچی کوسٹل سمیت دیگر منصوبوں کا ذکر تھا ۔ 2014-15 میں دیا میر سمیت پھر انہی منصوبوں کا ذکر کیا گیا اسلام آباد مری مظفر آباد ریڈ لائن منصوبے کا ذکر کیا گیا اس منصوبے پر آج تک کام شروع نہیں ہو سکا اور اس منصوبے کو اورنج ٹرین کا نام دے کر لاہور منتقل کر دیا گیا میرے دوست سپریم کورٹ بھی گئی اور کہا گیا کہ 24 گھنٹوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے حکومت کے پاس بجلی موجود ہے مگر وہ عوام کو نہیں دی جا رہی اس پر ماضی میں ٹینٹ بھی لگائے گئے اور دیہاتوں سے پنکھے بھی منگوائے گئے ،2010 ء میں راجہ پرویز اشرف نے افسروں کے کہنے پر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا لیکن میں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کیونکہ اس وقت تیل بہت مہنگا تھا انہوں نے کہا کہ ایک سال دو سال تین سال اور اب 2018 ء میں بجلی پوری ہونے کی بات کی جا رہی ہے میں کہتا ہوں کہ 2018 ء میں بھی بجلی پوری نہیں ہوگی 147 میگا واٹ ، 430 چشمہ اور 430 چشمہ فور منصوبے مکمل ہو جائیں گے لیکن ساہیوال کا 1320 میگا واٹ منصوبہ مکمل نہیں ہو گا جیسے اسلام آباد ایئر پورٹ کے منصوبے پر 80 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن اس کی سڑک اور پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ۔ ساہیوال کوئلہ کیسے پہنچے گا باہر سے کوئلہ کیسے آئے گا اس کوئلے کیلئے 800 بوگیاں درکار ہونگی ماحولیاتی آلودگی بڑھ جائے گی ساہیوال کی 30 فیصد آبادی بیماریوں کا شکار ہو جائے گی کوئلے کے منصوبے ریگستانوں یا ساحلوں پر لگنے چاہئیں نیلم جہلم 2018 ء تک منصوبہ مکمل نہیں ہو گا تربیلا کے چوتھے مرحلہ اور کون ان کول پر کام شروع نہیں ہو سکا قائداعظم سولر پارک 12 یا 13 میگا واٹ بجلی دے رہا ہے 70 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود اندھیرا ہو گیا یہ یہ پارک خود اندھیرے میں ڈوب گیا گوادر منصوبے اور ونڈ منصوبے میں کچھ نہیں ہے گڈانی پاور پارک ہی ختم ہو گیا صرف افتتاح ہو گیا ابھی انسٹالیشن ہی نہیں ہوا حویلی بہادر شاہ کا بھی پتہ نہیں ہے داسو میں بھی بہتری نہیں آسکی۔ بھاشا کے 840 ارب منصوبے کیلئے اس سال صرف 10-12 ملین روپے رکھے گئے ہیں 2018 ء تک لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر سکتے ۔ آج بھی ملک میں اوسط لوڈ شیڈنگ 14 گھنٹے روزانہ ہے بجلی کی چوری نہیں ہونی چاہئے دو بلب اور دو پنکھوں پر فکس بل بھجوایا جائے بڑے لوگ بجلی چوری کرتے ہیں ہم غریبوں کے نعرے لگا کر اقتدار میں آتے ہیں حکومت کہتی ہے کہ تین ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ پانچ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ پانچ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال ہے میں ٹھنڈ میں بات کر رہا ہوں لیکن عوام سخت گرمی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں سات لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں جس میں سے چار لاکھ لوگ ٹیکس ہی نہیں دیتے اس وقت پانی کی سخت ضرورت ہے دنیا نے پیشن گوئیاں کی ہیں کہ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہونگی سب سے زیادہ آلودگی چین میں ہے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے ہم نے پانی کے منصوبوں پر غور ہی نہیں کیا پاکستان کا مکمل انفراسٹرکچر اور معیشت کا درومدار زراعت پر ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ملک کی ساٹھ فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے وہاں حالت مزید خراب ہے ٗغریب آدمی جن کی وجہ سے ہم پارلیمان میں آتے ہیں وہ مرا جا رہا ہے ٗہم جلسوں میں غریبوں کی بات کرتے ہیں اور وہی غریب آدمی مر رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی چین میں ہے آج بھی پاکستان کے پاس کم سے کم تیس .لین کیوبک فیٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے2015-16میں زرعی شعبہ میں ہدف مقرر کیا گیا جبکہ منفی 0.19 حاصل کیا گیا جس ملک کا نفراسٹرکچر زراعت پر ہو اور وہ منفی میں چلا جائے اس کے نقصانات کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا28فیصد کپاس اور 40 لاکھ گانٹھیں کم ہوئی ہیں چاول کی فصل تباہ ہو گئی اور کوئی قرضہ دینے والا نہیں ملا ٗہماری اقتصادیات کا انحصار زراعت پر ہے جب اس کو نقصان ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے ٗہمارا کسان کیسے عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرے گا ہم نے کپاس درآمد کی تو کیسے ہمارا کسان مقابلہ کر سکتا ہے ٗہم سمجھتے ہیں کہ تجارتی خسارہ 6 فیصد ہے جو کہ حکومت کے مطابق 4.2 فیصد کے قریب ہے ٗاگر عوام کو حقائق بتائیں جائیں تو عوام بھوکا رہنے اور سوکھی روٹی کھانے کو تیار ہیں بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھ میں سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے کہ وہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار پانچ سو سے زائد روپے کا مقروض ہے ٗآج حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین قرضہ لیا ہوا ہے ٗہم قرضہ لے کر خوشی سے کہتے ہیں کامیابی سے لے آئے اور دیر ہی نہیں لگی جب ہم خود اس ملک میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے تو کوئی کیوں اس ملک میں سرمایہ کاری کرے گا خورشید شاہ نے کہا کہ ۔2008میں 3.719 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری پاکستان میں ہوئی جبکہ 2016 میں 1.016 ملین ڈالرز ہوئی ہے ٗ112 فیصد سرمایہ کاری واپس گئی جو کک لینے کے دینے پڑ گئے ٗرواں برس5.5 جی ڈی پی گروتھ میں حاصل کیا جو کہ 3.5 دکھائی دیتا ہے کیونکہ عشاریے نقصان میں جا رہے ہیں ٗہماری جی ڈی پی گروتھ کم ہو رہی ہے جو 2012 میں 3.5 تھی آج بھی وہی ہے اس میں اگر کمی نہی. ہوئی تو اضافہ بھی نہیں ہوا سید خورشید شاہ نے کہا کہ میں ایک سندھی ہوں اس لئے محب وطن ہوں کیونکہ یہ ملک ہمارے آباؤ و اجداد نے بنایا سندھ ملک کو ستر فیصد گیس فراہم کرتا ہیسندھ کی گیس پر تو ٹیکس ہے تاہم دوسرے صوبے کی ایل این جی پر کوئی ٹیکس نہیں یہ چیزیں وفاق نے دیکھنی ہیں کہ کہیں دوسرے صوبوں کے ساتھ زیادتی تو نہیں ہو رہی ٗکل 982 اسکیمیں ہیں رواں پی ایس ڈی پی میں جس کے کل اخراجات چار ٹریلین ہیں سید خورشید شاہ نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے ایسا وظیفہ پڑھا کہ کرائسز ڈویلپمنٹ آگیا تین سال مولانا صاحب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے پاس اپنی سکیموں کے لئے چکر لگاتے رہے اور چند کروڑ نہیں ملے لیکن پانامہ کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن کو چالیس پچاس ارب کے منصوبے مل گئے کچھ لوگ دعا کریں گے کہ ہر سال پانامہ لیکس آئے اور انہیں ترقیاتی فنڈز ملیں اور لوگوں کے کام ہوں انہوں نے کہاکہ ہمارا سارا پیسہ تو شاہ خرچیوں میں چلا جاتا ہے غریب کے لئے کوئی پیسہ نہیں ہے سادہ کاغذ کی امپورٹ پر ٹیکس ہے لیکن چھپے ہوئے پر نہیں اس وقت قرآن پاک ملائیشیا سے چھپ کر آرہا ہے پاکستان میں قرآن کریم شائع کرنے والی صنعت بند ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا بجٹ ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں واضح ہو کہ ہم نے آئندہ کونسے اہداف حاصل کرنا ہے اس وقت ہمارے غیر ترقیاتی اخراجات 3.844 ٹریلین ہیں ان کو پورا کرنے کےْ یے ہم بیرون ممالک سے قرضے لے رہے ہیں سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا تھا کہ ڈرون آیا ہے ملک کی سالمیت پر حملہ ہے حکومت استعفیٰ دے اب وہ استعفیٰ مانگنے والے کہاں ہیں؟ آج موجودہ حکومت کے لئے قرضوں میں ایک ہزار ارب کا اضافہ ہوا ہے ٗملک کی اسٹیل انڈسٹری بند ہو چکی ہے ایک لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں ڈیزل پر 40 روپے اور 10 فیصد لیوی یعنی جگا ٹیکس لگا دیا عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے سے عوام کو کیا ریلیف ملا ان ڈائریکٹ ٹیکس کو کم سے کم کیا جائے ایف بی آر اور دیگر ادارے کیا کر رہے ہیں ان ڈائریکٹ کا سہارالے کر حکومت اپ خسارہ پورا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آف شور کمپنیو ں کی وجہ سے پانامہ لیکس سامنے آئیں یہ ٹیکس چھپانے کی وجہ سے کمپنیاں بنی ہیں اس بیماری کو ملک سے بھگانا ہو گا اور جماعت اسلامی کے نعرے کرپشن سے پاک پاکستان کو نافد کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ نا جانے یہ پانامہ کی بیماری کہاں سے آگئی ہے۔ اللہ اس ملک کو ایسی بیماریوں سے پاک کرے اپوزیشن لیڈر نے شاہ محمود قریشی سے کہاکہ مخدوم صاحب آپ ہی دعا کریں کہ یہ بیماریاں ختم ہو جائیں اس پر شاہ محمود قریشی نے فوری طور پر دعا کیلئے ہاتھ اٹھا لئے۔خورشید شاہ نے کہا کہ آجکل ٹی او آرز کا دور ہے، ہم میثاق معیشت کے ٹی او آرز بنانے کے لیے تیار ہیں لیکن انشا اللہ ان ٹی او آرز پر بھی کوئی متفق نہیں ہو گا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ ملک میں ایمنسٹی اسکیم دینے کے باوجود ٹیکس نہ دینے والوں کو نیٹ میں نہ لانا حکومت کی ناکامی ہے۔میری تجویز ہے کہ ہمارے پاس نادرا مکمل اور بہترین ڈیٹا بیس ہے اس کو استعمال کرکے 3.2 ملین لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں ہم سپورٹ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈل کے تین سے چار بڑے منصوبے بنائے جائیں تو غربت اور لوڈشیڈنگ دونوں ختم ہوجائیں گے۔قائد اعظم سولر پاور منصوبہ 150 میگا واٹ 15 میگاواٹ بجلی پیدا بھی نہیں کرپارہا، آپ کو اس ناکام منصوبہ کے زمہ داروں کا تعین کرکے سزا دینی چاہئے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس ملک عوام کا احتساب سے اعتماد اٹھا کیونکہ ٹارگٹڈ احتساب کیاگیا شہید محترمہ بینظیر اور آصف زرداری کو اس احتساب کا نشانہ بنایا گیا نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی کا شکار پہلی مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی بنی اس ملک میں ایسا احتساب نہیں چلے گا ٗضرورت ہے کہ اس ملک میں شفاف احتساب کمیشن بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…