بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کی تعمیر،تمام ا فواہوں کا خاتمہ،حتمی اعلان ہوگیا

datetime 6  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ متنازعہ ہے، تین صوبوں کی اسمبلیاں جب تک اپنی قراردادیں واپس نہیں لیتیں ٗبیوروکریٹس کو قراردادوں کا احترام کر نا ہوگا پیر کو اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر سعید غنی نے عوامی اہمیت کے معاملہ پر کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حق میں چیئرمین واپڈا سلسلہ وار کالم لکھ رہے ہیں جبکہ تین صوبوں کی اسمبلیاں اتفاق رائے سے اس کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔ وفاقی حکومت چیئرمین واپڈا کے خلاف کارروائی کرے۔ سینیٹر غوث نیازی نے اسی معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین واپڈا نے یہ نہیں لکھا کہ کالا باغ ڈیم بنایا جائے بلکہ وہ اس معاملہ پر اپنی ذاتی رائے پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند سال قبل کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ہم فوجی عدالتوں کے قیام کی قانون سازی کریں گے۔ حالات کی وجہ سے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ آج کے حالات میں شاید تینوں صوبائی اسمبلیاں ایسی قرارداد منظور نہ کریں، ہمیں اناء کے خول سے نکل کر پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میثاق ء جمہوریت کے بعد میثاق ء معیشت کے علاوہ میثاق ء آبی ذخائر بھی ہونا چاہئے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ متنازعہ ہے جب تک تین صوبائی اسمبلیاں قراردادیں واپس نہیں لیتیں۔ بیورو کریٹس کو ان قراردادوں کا احترام کرنا چاہئے۔اجلا س کے دور ان ایم کیو ایم کی سینیٹر خوش بخش شجاعت نے کہا کہ او لیول، اے لیول کے امتحانات میں ایسے سوالات کئے جا رہے ہیں جو قابل اعتراض ہیں اور ان کے ذریعے ذہنوں کو خراب کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے انہیں مشورہ دیا کہ اس معاملے پر 218 کی تحریک لائی جا سکتی ہے تاکہ تفصیلی بات ہو سکے۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑی تو پورے ایوان کی کمیٹی بھی اس معاملے پر غور کے لئے تشکیل دی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…