پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف سے استعفیٰ،آف شور کمپنی کا اعتراف ’’کپتان‘‘کو لے ڈوبا، سیاسی منظر نامہ تبدیل

datetime 15  مئی‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک) تحریک انصاف سے استعفیٰ،آف شور کمپنی کا اعتراف ’’کپتان‘‘کو لے ڈوبا، سیاسی منظر نامہ تبدیل، عمران خان سے بھی تحریک انصاف کی قیادت سے استعفے کا مطالبہ سامنے آگیا اور یہ مطالبہ ن لیگ کی طرف سے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ہوا ،غیر اہم رہنماؤں نے چنگاری سلگادی،پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری ، ساجد جوکھیو اور ارم خالد نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آف شور کمپنی کا اعترف کرنے کے بعد اخلاقی طور پر خود کو پارٹی قیادت سے علیحدہ کرلیں اور قومی اسمبلی کی رکنیت کی معطلی کے لیے بھی الیکشن کمیشن کو ذاتی طور پر خط تحریر کرکے عوام میں اپنی آبرو بچائیں کیونکہ آف شور کمپنی کے مسئلے پر سب سے زیادہ شور خود عمران خان اور ان کی جماعت کے ان لوگوں نے مچایا جن کی آف شور کمپنیاں بھی ہیں اور انہوں نے قرضے معاف کرواکر قومی خزانے کو اربوں کی چپت لگائی۔ عمران خان نے ہمیشہ عوام اور ووٹ کی طاقت سے زیادہ ریٹائرڈ امپائر پر بھروسہ کیا اور چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے لیے انہوں نے ہر ناکام حربہ آزمایا جس پر انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔پی پی پی میڈیا سیل سندھ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے عوامی مینڈیٹ کی سنگین توہین کرتے ہوئے ہمیشہ جمہوریت پر کاری وار کیا اور اس ضمن میں انہوں نے پہلے ڈی چوک اسلام آباد میں ایک سو بائیس دنوں کا ناکام دھرنا دیا جسے انہوں نے کنٹینر میں ملاقات کرنے والی خاتون سے شادی کرکے ختم کردیا اور اس کے بعد انہوں نے آف شور کمپنیوں کا واویلہ مچایا جس میں وہ خود اور ان کے مہربان فنانسر پارٹی رہنما خود پھنس گئے۔انہوں نے کہا کہ اقتدار کی ہوس میں عمران خان نے پارلیمنٹ اور جمہوریت پر ایسے کاری وار کیے جس کا ازالہ کئی دہائیوں تک نہ ہوسکے گا۔بحرحال اب چونکہ عمران خان نے خود اعتراف کرلیا ہے ک انہوں نے آف شورکمپنی بنائی لہٰذا اب انہیں قوم اور جمہوریت پر ترس کھانا چاہیے اور اللہ اللہ کرنی چاہیے کیونکہ سیاست ان کے بس کی بات نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…