پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

آف شور کمپنی کے اعتراف کے بعد ایک اور بڑا سکینڈل،1987ء میں عمران خان نے کیا،کیا؟بڑا دعویٰ کردیاگیا

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لند ن میں آف شور کمپنی بنانے کے اعتراف کے بعد 1987میں غلط بیانی کرلاہور میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی کوٹے سے ایک کنال کا پلاٹ حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،عمران خان نے اس وقت موقف اختیار کیا تھاکہ انکے پاس پاکستان میں کوئی جائیداد یا پلاٹ نہیں ،اس لیے اسے سرکاری کوٹے سے پلاٹ الاٹ کیا جائے۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے ) کی سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق 1987میں عمران خان نے اس وقت کے وزیراعلی میاں محمد نوازشر یف سے پلاٹ دیے جانے کی درخواست کی تھی جسے وزیراعلی نے منظور کرلیا۔اس وقت کے سیکرٹری ٹو وزیراعلی نوید احسن کی طرف سے جاری لیٹر میں کہا گیا تھا کہ چیف منسٹر نے اپنے صوابدیدی کوٹے سے عمران خان کو فیصل ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ الاٹ کرنے کی منظوری دی ہے اس لیٹر کی ایک کاپی عمران خان کے نام بھی جاری کی گئی ۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے ) کی سامنے آنے والی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو4اپریل1987کو فیصل ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور میں ایک کنال کا پلا ٹ الاٹ کیا گیا ہے جس کا نمبر 11 ہے اور و ہ بلاک ڈی میں واقع ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے لند ن میں آف شور کمپنی بنانے کے اعتراف کے بعد 1987میں غلط بیانی کرلاہور میں وزیراعلی کے صوابدیدی کوٹے سے ایک کنال کا پلاٹ حاصل کیا تھا۔عمران خان نے اس وقت موقف اختیار کیا تھاکہ انکے پاس پاکستان میں کوئی جائیداد یا پلاٹ نہیں ،اس لیے اسے سرکاری کوٹے سے پلاٹ الاٹ کیا جائے۔واضح رہے کہ 1987میں میاں محمد نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے جنھوں نے عمران خان کو ایک کنال پلاٹ الاٹ کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ اس وقت کے سیکرٹری ٹو وزیراعلی نوید احسن مختلف محکموں میں اعلی عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں اور انھیں مشرف دور میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر چیئرمین نیب بنایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…