پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کے پی کے حکومت گرانے کی افواہیں،تحریک انصاف کے صبر کا پیمانہ لبریز،بڑا اعلان کردیا

datetime 4  مئی‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمو دالر شید نے کہا ہے کہ قوم کو قابض اور کرپٹ حکمرانوں سے نجات ملنے والی ہے، نواز شریف کی ڈ و بتی کشتی بچانا فضل الرحمان کے بس کی بات نہیں، مولانا کسی غلط فہمی کا شکار ہیں، پہلے نواز شریف کی محبت میں پختون قوم کا سودا کیا اب کے پی کے حکومت کیخلاف سازش کر رہے ہیں، درحقیقت حکومت کا ساتھ دیکر مولانا اپنی کرپشن چھپانا چاہتے ہیں، وزیراعظم کی موجودگی میں پانا مہ لیکس کی شفاف تحقیقات ممکن نہیں، انہیں جانا ہو گا پہلے یا بعد میں فیصلہ نواز شریف نے کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزپنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میاں محمود الر شید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خوفزدہ ہیں کہ کہیں کرپشن پر انکی گردن نہ دبوچ لی جائے، اسلئے وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں لیکن وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہیں نہ تو وہ حکومت کی ڈوبتی کشتی بچا سکتے ہیں اور نہ کے پی کے حکومت گرا سکتے ہیں، خیبر پختو نخو ا ء کے عوام اصلیت جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ مولانا نے پہلے نواز شریف کی محبت میں پختون قوم کا سودا کیا اب قوم کیخلاف سازش کر رہے ہیں، پانا مہ معاملے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میاں محمود الر شید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی موجودگی میں پانا مہ لیکس کی شفاف تحقیقات ممکن نہیں ہیں، انہیں جانا ہی ہو گا اب فیصلہ نواز شریف خود کر لیں کہ وہ پہلے جانا پسند کرینگے یا بعد میں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے اپنے گلوؤں کو بھیج کر جلسے میں بد نظمی پیدا کی۔ تحریک انصاف نے خواتین کو سیاسی شعور اور احترام دیا، اسلام آباد کے طویل دھرنا میں خواتین سے بدتمیزی کا کوئی ایک واقعہ پیش نہیں آیا۔ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اپنی کرپشن اور پکڑے جانے کے خوف سے اوچھے اور غیر اخلاقی ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اصل میں وہ تحریک انصاف نہیں قوم کی بیٹیوں کیخلاف سازش کر رہے ہیں۔ قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں میاں محمود الر شید کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ڈی جی ایل ڈی اے کے پیش نہ ہونے پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میاں محمود الر شید نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے انکی آئندہ ماہ ہونیوالے اجلاس میں طلبی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…