اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

پانامہ پیپرز، رانا ثناء اللہ نے بھی نواز شریف کی حمایت میں بڑی بات کہہ دی

datetime 6  اپریل‬‮  2016 |

لاہور ( نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ اگر الزامات کی بنیاد پر لوگ مستعفی ہونے لگیں تو کام کون کرے گا،تحقیقات سے سچ اور جھوٹ کا پتہ چل جائیگا ،پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ ارخود نوٹس لے سکتا ہے ، ریٹائرڈ جج نیب یا الیکشن کمیشن کا سربراہ ہو سکتا ہے تو جوڈیشل کمیشن کا کیوں نہیں ؟، کمیشن کو فیصلہ کرنا ہو گا دوسرے ملک میں بنی کمپنی کی تحقیقات ہو سکتی ہے یا نہیں ،کسی کے اشاروں پر احتجاج کرنے اور دھرنے دینے والے ایک مرتبہ پھر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی سازشیں ناکام ہوں گی،دھرنے دینے والوں کا ماضی اور حال دونوں ہی مشکوک ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قانون ملک کے اندر اور باہر کاروبار کی اجازت دیتا ہے ،وزیر اعظم نواز شریف کے کمیشن کے قیام کے اقدام کو سراہا گیا ہے اور عوام مجموعی طور پر وزیر اعظم کے اعلان سے مطمئن ہیں۔ پی ٹی آئی کے مٹھی بھر ممی ڈیڈی برگرلوگ احتجاج کررہے تھے تاہم اس مسئلے کیلئے بحث کا بہترین فورم سینیٹ اور قومی اسمبلی ہے۔ اگرکسی کوکمیشن پرتنقید ہے تواپنا مشورہ دے، شامل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کو فیصلہ کرنا ہو گا دوسرے ملک میں بنی کمپنی کی تحقیقات ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ تمام معاملات قانونی ہیں ہر پہلو کا جائزہ لینا ہو گا ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تہمینہ درانی کی تنقید جمہوریت کا حسن ہے ، تہمینہ درانی کی تنقید سے اندازہ لگائیں کہ ہم کتنے جمہوری لوگ ہیں ۔پانامالیکس انکشافات پر مستعفی ہونے کے سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر الزامات کی بنیاد پر لوگ مستعفی ہونے لگیں تو کام کون کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی لانگ مارچ کرنے او ر دھرنے دینے والے کسی کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرتے رہے ہیں لیکن ناکام رہے۔ ان کا ماضی اور حال دونوں مشکوک ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اب بھی یہ کسی کے کہنے پر ایسا کر رہے ہوں ۔ عوام ان لوگوں کو پہلے بھی مسترد کر چکے ہیں اور آئندہ بھی ان کی سازشیں ناکام رہیں گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…