بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اوبامہ نے نوازشریف کے امریکہ نہ آنے سے متعلق پریشانی کی افواہوں کو مسترد کردیا

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدر بارک اوباما نے وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ایٹمی کانفرنس کیلئے امریکا نہ آنے پر پریشان ہونے سے متعلق افواہوں کو مسترد کر دیا۔ایٹمی سلامتی کی چوتھی اور حتمی کانفرنس شروع ہونے کے موقع پر وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ اوباما نے بدھ کو نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدراوبا نے کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ لاہور میں دہشت گردی کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے امریکا دورہ منسوخ کرتے ہوئے پاکستان میں رہنے فیصلہ کیوں کیا۔نواز شریف کی جانب سے دورہ منسوخ کرنے کے دو دنوں بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ کے بعد قیاس آرئیوں نے جنم لیا کہ اوباما چاہتے ہیں کہ نواز شریف اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔تاہم ، وائٹ ہاؤس کے بیان سے نہ صرف ان قیا س آرائیوں کر تردید ہوتی ہے بلکہ اس سے ٹیلی فون کال کا مقصد بھی ظاہر ہوا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کا ساتھ دینے کے امریکی عزم کو دہرایا۔نواز شریف کی غیر موجودگی کے باوجود کانفرنس سے متعلق بحث و مباحثوں بالخصوص میڈیا میں پاکستان مرکزی موضوع بنا رہا۔ ایک امریکی خبررساں ادارے کی تجزیہ کارباربرا سلیون نے لکھا بیلجئم اور پاکستان میں دہشت گردی کے بعد حتمی ایٹمی سلامتی کانفرنس کو مزید اہمیت ملتی ہے۔ سینئر محقق مائلز پومپر نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ چین نائجیریا میں ایک ری ایکٹر کو تبدیل کر رہا ہے تاکہ اسے چلانے کیلئے انتہائی افزودہ یورینیم کی ضرورت باقی نہ رہے۔پومپر کے مطابق، امریکا کی قومی ایٹمی سلامتی انتظامیہ پرامید ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے) پاکستان، شام اور ایران میں ایسے ہی ریسرچ ری ایکٹرز تبدیل کرنے میں مددگار ہو گی۔پومپر نے کہا کہ ایران معاہدہ کا مقصد یہی تھا کہ نو ملکوں (امریکا، روس، فرانس، چین، برطانیہ،پاکستان، انڈیا، اسرائیل اور جنوبی کوریا) پر مشتمل دنیا کے موجودہ ایٹمی کلب میں نئے رکن کا اضافہ نہ ہونے پائے۔فاکس نیوز نے کانفرنس سے متعلق کہا کہ پاکستان اور روس جیسے ’طاقت ور ملکوں‘ کی غیر موجودگی ایٹمی مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…