کراچی (نیوز ڈیسک) ڈائریکٹر جنرل نیب کرنل (ر) سراج النعیم نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 2.6 کھرب ڈالرز کرپشن کی نظر ہوجاتے ہیں جس سے یہ امر واضح ہے کہ کرپشن صرف پاکستان کا نہیں بلکہ ایک اہم عالمی مسئلہ ہے۔عالمی سروے کے مطابق کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 168 ممالک میں سے117 واں نمبر ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔پاکستان کے قیام سے اب تک 59 انسداد کرپشن اور احتساب سے متعلق قانون عمل میں لائے جاچکے ہیں جن میں سب سے پہلا قانون 1947 ء میں پاس ہوا جبکہ قومی احتساب بیورو(نیب) کاقیام نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی آرڈیننس 1999 ء کے ذریعے عمل میں لایا گیا۔پاکستان میں بزنس کو سب سے زیادہ خطرہ کرپشن کی وجہ سے ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی اور نیب کے اشتراک سے کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ’’انسدادکرپشن اور آگاہی ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی معیشت کو روزانہ کرپشن کی وجہ سے 133 ملین ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ صرف ایک فیصد سے بھی کم پاکستانی شہری ٹیکس اداکرتے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔سندھ میں چارکھرب روپے کی مالیت کی 24000 ایکڑاراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ نیب کی مداخلت اور بروقت کاروائی کے وجہ سے منسوخ کرتے ہوئے سندھ حکومت کو واپس کردی گئی ۔نیب نے کاروائی کرتے ہوئے ٹھٹھہ ضلع کے 56 دیہاتوں کی 03 لاکھ ایکڑ پر محیط اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ کردی ہے کیوں کہ ان کی الاٹمنٹ مشکوک اور جعلی ناموں پر کی گئی تھی۔نیب ہر قسم کے سیاسی اور انتظامی دباؤ سے پاک ہے اور میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کرتااور ہمارا بھرتیوں کا طریقہ کار انتہائی سخت اور میرٹ پر مبنی ہے ۔نیب کے آفیسرز کو وقتاًفوقتاً عالمی تحقیقاتی اداروں سے تربیت فراہم کی جاتی ہے۔اس موقع پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کے بغیر ملکی ترقی اور استحکام کا حصول ناممکن ہے کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے اور یہ پاکستان بننے سے قبل بھی موجود تھا ۔ہمارے طالب علموں اور نوجوانوں کو کرپشن کے خاتمے کے لئے اہم اور کلیدی کردار اداکرنا ہوگاکیونکہ یہی طلبہ آگے چل کر اہم سرکاری اور نجی عہدوں پر فائزہوں گے اور ان ہی کے ہاتھوں سے ملک کے مستقبل کے فیصلے ہوں گے۔جامعہ کراچی میں اس قسم کے آگاہی سیمینار کا انعقاد لائق تحسین ہے اور مستقبل میں تمام کلیہ جات میں اس طرز کے سیمینار کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ہم سب مل کر اس معاشرتی برائی کا سد باب کرنے میں اپنا مثبت کردار اداکرسکیں۔رئیس کلیہ نظمیات وانصرام پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی بڑی وجہ سیاسی سرپرستی اور نااہل انتظامیہ ہے ،ہمیں نوجوانوں کو وسیع تر مواقع فراہم کرنا ہوں گے جس سے وہ اس معاشرتی ناسور کے خاتمے میں اپنا کلیدی کرداراداکرسکیں۔کرپشن کے خاتمے کے لئے احتساب کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا عنصر بھی لازم وملزوم ہے اور احتساب نیچے سے اوپر نہیں بلکہ اعلیٰ عہدوں سے شروع ہوکر نچلے عہدوں تک ہونا چاہیئے۔رجسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان نے ڈی جی نیب کرنل (ر) سراج النعیم کوخوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس قسم کے آگاہی سیمینار ز کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے ،جامعہ کراچی نے کرپشن کے خاتمے اور احتسابی عمل کو یقینی بنانے کے لئے دوررس اور ٹھوس اقدامات اُٹھائے ہیں ۔جامعہ کراچی میں تدرسی اور غیرتدریسی عملے کی تقرریوں میں شفافیت اور میرٹ کو ملحوظ رکھا جاتاہے اور طالب علموں کو ایک بہترین تدریسی اور علمی ماحول فراہم کرنے کے لئے جامعہ کراچی کوشاں رہتی ہے۔سیمینار کے اختتام پر سوال وجواب کا سیشن بھی ہوا۔سیمینار میں اساتذہ وطلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی
کرپٹ ترین ممالک کی فہرست، جانیئے پاکستان کا نمبر کیا ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)
-
حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
ملک بھرکے بجلی صارفین کیلئے بڑا ریلیف ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا
-
رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ اہم فلکیاتی پیشگوئی سامنے آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
تمام تعلیمی ادارے 24 اگست تک بند رہیں گے! اعلان ہوگیا
-
عید میلادالنبیﷺ کب منائی جائے گی؟ تعطیل کا اعلان ہوگیا
-
اٹک میں قبرستان سے ملنے والی بچے کی لاش کا معمہ حل، قاتل بچے کا باپ نکلا
-
لاہور میٹرو بس سروس 11 اگست سے بند کرنے کا اعلان
-
عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ
-
مرونل ٹھاکر کی خود سے 10 سال چھوٹے کرکٹر سے تعلق کی افواہیں، اداکارہ کا ردعمل آگیا
-
سعودی عرب ‘فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 مزدور جاں بحق ہوگئے
-
سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی
-
پاکستان میں عید میلادالنبی ؐکی تاریخ کب ہوگی؟



















































