بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اے این پی بلوچستان کے بزرگ رہنما سائیں انور خان شیرانی کی بلاجواز گرفتاری پر پارٹی کا شدید رد عمل

datetime 31  مارچ‬‮  2016 |

پشاور(نیوز ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان اور اے این پی صوبہ بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے ژوب میں پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر سائیں انور شیرانی کی بے جا گرفتاری پر تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے رویے کی مذمت اور گرفتار رہنما کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ مذمتی بیان میں دونوں رہنماؤں نے سائیں انور شیرانی کی ژوب میں پولیس کے ہاتھوں بلاجواز گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پر امن احتجاج کے نتیجے میں نکالے گئے جلوس کی پاداش میں دیگر کارکنوں کے علاوہ سائیں انور خان شیرانی جیسے بزرگ رہنما کی گرفتاری نے صوبائی حکومت کے غیر جمہوری رویے کو بے نقاب کر دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس اور شرم کی بات ہے کہ یہ اقدام ایک ایسی صوبائی حکومت کی جانب سے اُٹھایا گیا جس کے سربراہان قوم پرستی اور جمہوریت پسندی کا دعویٰ کرتے آ رہے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ سیاسی طریقے سے پر امن احتجاج کرنا یا کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی حکومت کی طاقت کے ذریعے اس جمہوری حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ سائیں انور شیرانی کا شمار پشتون قوم پرستوں کی اس نسل میں ہوتا آیا ہے جنہوں نے انتہائی جبر اور تشدد کے سیاسی ماحول میں اپنی مٹی اور عوام کے حقوق کی آواز اُٹھائی اور اس جدوجہد میں بے مثال قربانیاں دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے اتنے سینئر رہنما کو گرفتار کرنا اور ان کو مسلسل پابند سلاسل رکھنا بہت سے سوالات کو جنم دینے کا سبب بنا ہوا ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے سائیں انور خان شیرانی کی فوری رہائی کے علاوہ ان حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اتنے بزرگ رہنما پر ہاتھ ڈالا اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک روا رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…