منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ایجنٹ کی گرفتاری: پاک ایران تعلقات پر ’منفی اثرات‘ پڑ سکتے ہیں

datetime 31  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایران نے کہا ہے کہ پاکستانی میڈیا میں بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور اس سے متعلق ایسی باتیں پھیلائی گئی ہیں جس سے ایران اور پاکستان کےدرمیان موجود دوستی اور اخوت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔تاہم دوسری جانب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر اور پاکستانی آرمی چیف کی ملاقات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پاکستان میں سرگرمیوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان نے اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ بھارتی ایجنٹ جو کہ نیوی کےحاضر سروس افسر ہیں کوبلوچستان سے حراستمیں کیا گیا تھا۔ دو روز قبل بھارت کے مبینہجاسوس کا اعترافی ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا تاہم بھارت نےکلبھوشن یادیو کے اعتراف کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
مبینہ جاسوس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران سے پاکستان داخل ہوتے وقت تین مارچ کو گرفتار ہوئے تھے اور انھوں نے 2003 میں نے ایران کے علاقے چاہ بہار میں ایک چھوٹا سا بزنس شروع کیا تھا۔
جمعرات کو پاکستان میں موجود ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک پریس نوٹ میں لکھا گیا ہے ’قدرتی طور پر جو لوگ دو اسلامی ہمسایہ ممالک ایران، پاکستان کے درمیان فروغ پاتے تعلقات سے خوش نہیں، مختلف طریقوں، ناخوشگوار باتوں اور کبھی کبھی توہین آمیز مطالب پھیلا کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی کے حالیہ دورہ پاکستان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کمزور کریں اور ایران پاکستان کےدرمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو خراب کر سکیں۔
ایرانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ گذشتہ 70 سالہ تاریخ میں پاکستان کی مغربی سرحدوں پر کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نےپاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحدوں کو امن اور دوستی کی سرحدیں تصور کیا اور جیسا کہ صدر روحانی نے اخبار نویسوں کے سامنے اعلان کیا ہے۔ ’ایران کی سلامتی پاکستان کی سلامتی اور پاکستان کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے۔‘
ایرانی سفارتخانے کے تفصیلی بیان میں آخر میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ توہین آمیز باتوں کے پھیلانے سے دونوں ممالک کے ایک دوسرے سے متعلق مثبت اور مخلصانہ نقطہ نظر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…