بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

زلزلے کے نام پر بیرون ملک سے بہت امداد ملی تاہم وہ پیسہ کہاں گیا ، انکوائری ہونی چاہئے ، عمران خان

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

ایبٹ آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ زلزلے کے نام پر بیرون ملک سے بہت امداد ملی تاہم وہ پیسہ کہاں گیا اس حوالے سے انکوائری ہونی چاہیے ،حکمرانوں نے دو سو ارب روپے اورنج ٹرین پر لگا دئیے،قوم کے بچے باہر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ سکولوں کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے کہاکہ 11سال پہلے زلزلہ آیا تھا اورزلزلے میں ہزاروں سکول متاثر ہوئے تھے جس کے بعد سکولوں کی بحالی کا کام شروع کیا گیا تھا جو آج تک مکمل نہیں ہو سکا،چھ سو سکولوں پر کام شروع نہیں ہوا جبکہ سات سو سکولوں پر کام تو شروع ہوا مگر ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ عمران خان نے کہاکہ حکمرانوں نے دو سو ارب روپے اورنج ٹرین پر لگا دیے مگرقوم کے بچے باہر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، قومیں تعلیم سے بنتی ہیں اورنج ٹرین سے نہیں، تعلیم سب سے زیادہ ضروری ہے۔عمران خان نے کہاکہ اب صوبائی حکومت نے 7 ارب روپے مختص کرکے سکولوں کی تعمیر کی ذمہ داری لی ہے ۔ وفاق نے کہا کہ یہ سکول ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتے ۔ نواز شریف نے وعدہ کیا تھا ہم 4 ارب روپے دیں گے لیکن وہ بھی نہیں ملا ، کے پی کے میں 29 ہزار سرکاری سکول ہیں ، 11 ہزار سکولوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہیں ، جو سکول ایرا اور وفاقی حکومت کے تحت تھے ان کیلئے بیرون ملک سے اربوں روپے کے فنڈز آئے تاہم ہمیں اس میں سے کچھ نہیں ملا ، وفاق بتائے یہ پیسہ کہاں گیا اور سکولوں کیلئے استعمال کیوں نہیں ہوا ، انہوں نے کہا کہ قومیں پلوں اور ٹرینوں سے نہیں بنتیں قومیں تعلیم سے بنتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب ادارے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کے پی کے حکومت نے تعلیم پر سب سے زیادہ پیشہ خرچ کیا،حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب ادارے ٹھیک کام کر رہے ہوں اور پولیس غیر سیاسی ہو تاہم پنجاب کی پولیس غیر سیاسی نہیں۔۔ عمران خان نے کہا کہ پنجاب سندھ اور کے پی کے میں بلدیاتی نظام نافذ ہوئے ، کے پی کے میں 44 ارب روپے کا فنڈ بلدیاتی اداروں میں جا چکا ہے ، مشرف کے دور میں اس صوبے میں 2 ارب روپے کے فنڈز تقسیم ہوئے تھے۔ ہم نے پہلی بار ڈسٹرکٹ سطح پر پولیس کے احتساب کا نظام بنایا ہے ، ہم نے بیورو کریسی کے نظام کا معائنہ کرنے کیلئے نظام وضع کیا ہے ، اور میں یقین دلاتا ہوں کہ بلدیات کیلئے جو پیسہ مختص کیا گیا ہے وہ درست طریقے سے استعمال ہوگا۔عمران خان نے کہاکہ کے پی کے میں پولیس ایکٹ پاس کرنے لگے ہیں تاکہ پولیس کو غیر سیاسی کیا جائے،عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا سب سے بڑا جرم ہے جس پر انہوں نے دھرنا دیا تاہم انکا دھرنا پرامن تھا اوراس دوران ایک بھی گملہ نہیں ٹوٹا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…