اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور آنے والے بلوں کے حوالے سے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے نہیں کیا جائےگا، ملازمین کی ملازمت کو مکمل تحفظ دیا جائےگا ¾پی آئی اے کے ہوٹل فروخت کریں گے نہ ہی 26 فیصد حصص بیچیں گے جبکہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں حکومت ان سفارشات کو ترامیم کی صورت میں پیش کرے تو بل کا شق وار جائزہ لینے کےلئے تیار ہیں۔ منگل کو کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں کمیٹی کے چیئرمین زاہد حامد کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت کمیٹی کے ارکان سید نوید قمر، سعید غنی، عبدالوسیم ، اسد عمر، مشاہد اللہ خان، نعیمہ کشور خان، مولانا عطاءالرحمن، سینیٹر حاصل بزنجو سمیت وزارت قانون اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ پی آئی اے کو لمیٹڈ کمپنی بنانے کے حوالے سے بل پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی آئی اے کو کمپنی بنانا حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پی آئی اے کو 9 ماہ میں 7 ارب 75 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ 30 جون تک پی آئی اے کو 22 ارب روپے درکار ہیں ، پی آئی اے کے اثاثوں کی کل مالیت 150 ارب روپے ہے ،پی آئی اے ملازمین کی ملازمت کو مکمل تحفظ دیا جائےگا اس ادارے کو بہتر بنانے کےلئے سٹرٹیجک پارٹنر شپ کرنا چاہتے ہیں۔ پی آئی اے کے ہوٹل فروخت کریں گے نہ ہی 26 فیصد حصص بیچیں گے ،پی آئی اے کا بل منظور ہوگیا تو پی آئی اے کا کور بزنس پاکستان ایئر ویز کو منتقل کریں گے ،اس کے علاوہ کوئی بھی چیز نئی کمپنی کو منتقل نہیں کی جائےگی۔ پی آئی اے کی مینجمنٹ کسی بھی صورت سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے نہیں کی جائےگی انہوں نے کہا کہ کوئی سٹرٹیجک پارٹنر نہ آیا تو پی آئی اے کو ہی بہتر کریں گے۔ پی آئی اے بل کی منظوری کے بعد پی آئی اے کے امور کی نگرانی کےلئے پارلیمنٹ کمیٹی بنانا چاہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ کمیٹی کے رکن اسد عمر نے کہا کہ پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول اگر کسی کو نہ دیا گیا تو بل کی مخالفت نہیں کریں گے اس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول کسی سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے کرکے ماضی کی غلطی نہیں دہرائیں گے۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے کمیٹی میں پی آئی اے یونین کے نمائندوں کو بھی بلانے کا مطالبہ کیا جس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پی آئی اے ملازمین کو ملازمت کا مکمل تحفظ دیا جائےگا جس پر کمیٹی میں موجود اپوزیشن ارکان نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے بل کے حوالے سے انتظامی کنٹرول کسی کو نہ دینے کے حوالے سے ترمیم شامل کی جائے تو بل کا شق وار جائزہ لے لیتے ہیں۔ کمیٹی میں دیگر بلوں کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے عزت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے حوالے سے اپنی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے مزید مشاورت کےلئے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں ان دونوں بلوں کے حوالے سے اپنی رائے پیش کریں گے۔
پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول سٹرٹیجک پارٹنر کے حوالے نہیں کیا جائےگا ، اسحاق ڈارکی خصوصی کمیٹی کو یقین دہانی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
بجٹ سے پہلے بڑا دباؤ، سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ اور پنشن بحالی کا مطالبہ
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری



















































