بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دہشتگردی کا کوئی منظم نیٹ ورک ہے نہ دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں،رانا ثناء اللہ

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) وزیرقانون پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں دہشتگردی کا کوئی منظم نیٹ ورک ہے نہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ پنجاب میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے،پاک فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کو غلط انداز میں لیا جا رہا ہے ،آرمی اوروفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں،ملک میں کچھ ایسے عناصر ہیں کو کسی کو خوش کرنے کے لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں،سانحہ لاہور کے بعد پنجاب بھر میں 56 آپریشن پولیس، 16 سی ٹی ڈی، اور 88 آپریشن لوکل پولیس نے ایجنسیوں کے ساتھ ملکر کیے گئے ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرقانون پنجاب رانا ثنااللہ کاکہنا تھا کہ سانحہ گلشن پارک کے زخمیوں کا بہترین اور مفت علاج کیا جارہا ہے جب کہ کسی زخمی کو علاج کے لیے بیرونی ملک بھیجنا پڑا تو گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے وزیرستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نست ونابود کیاجبکہ پنجاب میں بھی اس سانحہ سے قبل نیشنل ایکشن پلان کے مطابق مشترکہ کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جس میں پولیس، فوج اور دیگر فورسز کے جوان شامل رہے، پنجاب میں 56 آپریشن پولیس، 16 سی ٹی ڈی، اور 88 آپریشن لوکل پولیس نے ایجنسیوں کے ساتھ ملکر کیے، ضرورت پڑنے پرفوج بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پرکارروائی کرتی رہی ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب میں دہشتگردی کا کوئی منظم نیٹ ورک ہے اور نہ ہی دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جبکہ دعوے سے کہتا ہوں کہ پنجاب میں کوئی نوگو ایریا نہیں بھی نہیں ہے،وزیر اعظم نواز شریف کی سخت ہدایت پرانٹیلی جنس بیسڈ آپریشنزکی تعدا د بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر سے 5 ہزار 221 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 216 کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے جبکہ دیگر کو تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا، 1550 افراد فورتھ شیڈول میں شامل ہیں، جن پر کڑی نگاہ رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مدرسوں کا مکمل رکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے جب کہ سانحہ گلشن پارک پر جے آئی ٹی بھی بنادی گئی ہے جس میں سی ٹی ڈی سمیت دیگر ایجنسیوں کے لوگ شامل ہیں۔وزیرقانون کا مزید کہنا تھا کہ وزیرستان میں ہماری فورسز نے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کیا جا رہا ہے،پنجاب سمیت تمام صوبوں میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں،صوبوں میں زیادہ تر آپریشنز خفیہ اطلاعات پر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جیو ٹیکنگ کے بعد 532مدارس کی نشاندہی پر کڑی نگرانی کی جاری ہے،جبکہ جیو ٹیکنگ کے بعد 15ہزار مدارس کا ریکارڈ جمع کیا گیا جو پنجاب حکومت کے پاس ہے،ریکارڈ میں مدارس میں کتنے اساتذہ ،طلباء اور سہولیات سے متعلق تمام تفصیلات موجود ہیں۔واضح رہے 2 روز قبل لاہور کے گلشن پارک میں المناک سانحے میں 72 افراد جان کی بازی ہارگئے تھے جس کے بعد آرمی چیف کی جانب سے پنجاب بھر میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…