بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اسے کہتے ہیں انصاف! خیبر پختونخوامیں وہ اعلان ہوگیا جس کیلئے بلوچستان50سال سے ترس رہاہے

datetime 28  مارچ‬‮  2016 |

پشاور(نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اختیارات کو نجی شعبے کی طرف منتقل کرنے کےلئے اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کےلئے مختلف اداروں کے بورڈز میں نجی شعبہ کو نمائندگی دی گئی ہے تاکہ نجی شعبہ صوبے کی ترقی میں فعال کردار ادا کرسکے۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں صوبائی وزرائ، معاونین خصوصی، مشیر، چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئندہ بجٹ کی تیاری، خود کفالت روزگار سکیم، پروفیشنل ٹیکس، پبلک سروس کمیشن، گلیات ڈویلپمنٹ ایکٹ اور ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈز کے امور پر بحث کی گئی اور اس سلسلے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ اس موقع پر لاہور میں خود کش دھماکے میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کےلئے دعا کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اگلے سالانہ بجٹ کے بارے میں ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ بجٹ کسی بھی صورت میں موجودہ بجٹ سے حجم کے لحاظ سے کم نہیں ہوگا۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ گیس رائلٹی کی مد میں ملنے والے فنڈز کا 50فیصد حصہ گیس پیدا کرنے والے اضلاع میں گیس کی فراہمی پر خرچ کیا جائے گا جبکہ باقی فنڈ کا 50فیصد حصہ دوسرے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلع کرک میں فلٹریشن پلانٹس کے ذریعے پینے کے صاف پانی پر توجہ دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو فوری طور پر مختلف محکموں کو مختص ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی فنڈز کا استعمال دوسرے صوبوں کی نسبت بہت بہتر ہے۔ اس موقع پر ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈز ایکٹ میں ترامیم، پروفیشنل ٹیکس میں اضافہ اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کے استحکام کےلئے کیبنٹ کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دی گئی۔ واضح رہے کہ ملک کی گیس کی ضروریات کا بڑا حصہ بلوچستان سے پورا ہوتاہے لیکن پچاس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بلوچستان میں اکثر علاقوں میں گیس دستیاب نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…