بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی چپ رہے ، غیر ملکی اہم شخصیت نے ممتاز قادری کی حمایت کر دی

datetime 26  مارچ‬‮  2016 |

گلاسگو(نیوز ڈیسک) اسکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی مسجد کے امام نے مقامی مسلم کمیونٹی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے عمل کو احسن قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی ایک مسجد کے امام مولانا حبیب الرحمٰن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ ممتاز قادری کو پھانسی دیئے جانے پر شدید پریشان ہیں۔مولانا حبیب الرحمٰن نے اپنے پیغام میں عدالت سے سزا پانے والے ممتاز قادری کے نام کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ (یعنی ان پر اللہ کی رحمت ہو) بھی تحریر کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں آج اپنا درد نہیں چھپا سکتا، ایک سچے مسلمان کو سزا دے دی گئی۔اسکاٹ لینڈ کے امام نے ممتاز قادری کے عمل کا موازنہ جنگ عظیم دوم کے دوران ہٹلر کی نازی پارٹی کے فرانس پر قبضے اور فرانسیسی مزاحمت کے ساتھ کیا۔انہوں نے کہاکہ جب فرانس پر نازیوں کا قبضہ ہوا، تو فرانسیسیوں نے قوم کے تحفظ کے لیے ہر وہ کام کیا جو وہ کر سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ فرانسیسی قومی ہیرو تھے، ممتاز قادری نے پاکستان کی آزادی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، یہ کسی انفرادی شخص کا نہیں بلکہ قوم کی شناخت اور اسلامی اقدار کا معاملہ ہے۔مولانا حبیب الرحمٰن نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے مقدمے کے حوالے سے ہونے والے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کے اہلخانہ کو دیت کی رقم لینے پر مجبور کیا گیا جبکہ ممتاز قادی کی پھانسی غم اور تکلیف کا ایک ذریعہ ہے۔اسکاٹ لینڈ کے امام نے ممتاز قادری کو بھائی قرار دیا اور سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے عمل کو امت کی جانب سے ادا کی گئی ذمہ داری قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ممتاز قادری کی پھانسی مسلم امت اور پاکستانی قوم کی مجموعی ناکامی ہے۔مولانا حبیب الرحمن نے کہا کہ سلمان تاثیر کے قتل کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی، چاہے میں ان کے خیالات سے اتفاق کروں یا اختلاف، ایک امام اور انسان کی حیثیت سے میں نے ممتاز قادری کو دی جانے والے پھانسی کے طریقے پر بیزاری کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کو پھانسی اسلامی اصولوں اور احکامات کے مطابق نہیں دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…