بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کراچی 10، تھانوں کی حدود میں سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی،فیروزآبادتھانہ سرفہرست

datetime 16  مارچ‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا جن بے قابو ہو گیا، شہر قائد کے 10 تھانوں کی حدود میں سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں سرفہرست فیروز آباد تھانہ ہے۔شہر قائد کا عام شہری اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں سے متاثر ہے۔ مسلح ملزمان شہر قائد کی مختلف شاہراہوں پر دندناتے پھر رہے ہیں، ملزمان کسی بھی شاہراہ پر شہریوں کو روکتے ہیں، چھینا جھپٹی کرتے ہیں اور فرار بھی ہو جاتے ہیں۔ شہر قائد کے دس تھانوں کی حدود میں سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔فیروز آباد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں پہلی پوزیشن پر آ گیا جہاں رواں سال 1 ہزار 461 موبائل فونز چھینے گئے ہیں۔ شاہراہ فیصل دوسرے، گلشن اقبال تیسرے اور کورنگی انڈسٹریل ایریا چوتھے نمبر پر ہے۔ عزیر بھٹی، تیموریہ، نیو ٹاو ¿ن تھانوں کی حدود میں بھی سب سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد اور سچل تھانوں کی حدود میں بھی اسٹریٹ کرائم ایک اہم مسئلہ ہے۔ گلشن اقبال اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں 11 سو 31 موبائل فونز چھینے گئے ہیں۔ عزیز بھٹی، تیموریہ، نیو ٹاو ¿ن میں 8 سو 71 موبائل فونز چھیننے کی وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔پولیس حکام کا دعوی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی طرح بہت جلد اسٹریٹ کرائم کا بے قابو جن بھی بوتل میں بند ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…