بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مشاورت کے بعد اعلان کرینگے کہ پارٹی کو کون لیڈ کرے گا،مصطفی کمال

datetime 15  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف سیاسی رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہم نفرت کو ختم کرکے محبت پھیلانے آئے ہیں ہمارا پہلا کام دوسروں کو تحمل سے سننا اور برداشت کرنا ہوگا ۔ ہماری پارٹی قومی سطح کی ہوگی کراچی سے خیبر تک تمام لوگوں سے رابطہ کرینگے 23 مارچ کو پارٹی کا نام سامنے آ جائے گا ۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ ہم ایک قومی پارٹی لانچ کررہے ہیں جس میں کوئی آمریت نہیں ہوگی آنے والے دنوں میں پورا روڈ میپ دینگے 23 مارچ کو پارٹی سامنے آجائے گا انہوں نے کہا کہ ہمارے ماننے والے کی بنیاد دوسروں کو برداشت کرنا ہوگا ہمارا کارکن دوسروں کو تحمل سے سنے گا اور اپنی بات منوائے گا ہم ملک کے ہر کونے میں جائینگے اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے اچھے تعلقات قائم کرینگے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں ہمیشہ کارکن قربانی دیتے ہیں اور لیڈر بڑی گاڑیوں میں پھر رہے ہوتے ہیں ہمارے لیڈر سے کارکن تک تمام لوگ محبت کرنے اور محبت پھیلانے والے ہوں گے ہم نفرت کو ختم کرنے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم مشاورت کے بعد اعلان کرینگے کہ پارٹی کو کون لیڈ کرے گا جیسا شہر ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہم شہر کو اکٹھا کرینگے ہمارا مقصد لوگوں کو آپس میں جوڑنا ہے انہوں نے کہا کہ متحدہ کے قائد بتائیں انہوں نے عوام کیلئے کیا کیا ہے دو نسلیں تباہ کرنے کے بعد اب بھی انہیں سکون نہیں ملا ہم متحدہ میں رہے ہم بھی قصور وار ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…