بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پنجاب کو اب قربانی دینا پڑےگی ،میر ظفر اللہ جمالی نے انتبا ہ کردیا

datetime 14  مارچ‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے تو پنجاب کو قربانی دینا پڑے گی اور اب اس نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے چھوٹے صوبوں کےساتھ کیا سلوک کرنا ہے ،آج بھی اس حق میں ہوں کہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تعداد 12کر دی جائے ، بطور وزیر اعظم اس پر پیپر ورک تیار کیا تھا لیکن اس کے بعد میرے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا ،بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں ، خدا کےلئے انہیںگالی دینے کا سلسلہ بند اور غدار کہنے کی روایت ختم ہونی چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا کہ پنجاب خود کو بڑا بھائی کہتا ہے توا سے پاکستان کو آگے لے کر جانے کےلئے قربانی دے کر اسے ثابت بھی کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو پاکستان سے اتنی ہی محبت ہے جتنی کسی اور صوبے کے کسی فرد کو ہے ، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں اور خدا کےلئے انہیںگالی دینا کا سلسلہ بند کیا جائے اورانہیںغدار کہنے کی روایت بھی ختم کی جائے ۔ انہوںنے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کےلئے نیک شگون ہے ایسے طویل المدتی منصوبوں کے معاہدے کرنے والے کوئی اور اور انہیں تکمیل تک پہنچانے والے کوئی او رلوگ ہوتے ہیں ، اس منصوبے کو ضرو رپایہ تکمیل تک پہنچنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے مسائل کا حل نتظامی بنیادوں پرصوبوں کو چھوٹا کرنے میں ہے اور یہ تعداد 12 کی جائے ۔ میں نے بطور وزیراعظم پیپر ورک کیا تھا لیکن اس کے بعد میرے خلا ف پراپیگنڈا شروع کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ضیاءالحق نے بھی وزیراعظم بننے کی پیشکش کی تھی لیکن آخری اسٹیج پر وہ اس سے مکر گیا ۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے بتایا کہ وہ اپنے طبی معائنے اور بعض افراد سے اظہار تعزیت کے لئے لاہور آئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…