منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

حکومت سے علیحدگی کی دھمکی،مولانا فضل الرحمان نے وہ ہی کیا جس کی امید تھی

datetime 14  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حالات اس نہج پر نہیں پہنچے کہ حکومت سے علیحدہ ہوں تاہم تحفظ حقوق نسواں بل موجودہ صورتحال میں قبول نہیں ، نیب کا ادارہ ڈکٹیٹر نے انتقام لینے کے لئے بنایا تھا اگر وزیر اعظم کی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تو پھر ضرور اس کے بار ے سوچنا ہوگا،اس وقت پاکستان اور چین اقتصادی دور میں داخل ہوئے ہیں ،قوم چین کی دوستی پر فخر کرتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چینی نائب وزیر خارجہ لی چونگ کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ملک کے مختلف حصوں میں عوام کی ضروریات کے مطابق سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ۔اقتصادی راہداری منصوبے پر ہم سب ایک ہیں ۔انہوںنے کہا کہ اس وقت پاکستان اور چین اقتصادی دور میں داخل ہوئے ہیں ، چین کے وفد نے پاکستان کے لئے اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔پاک چین دوستی کو 65سال مکمل ہوگئے ہیں اس دوران ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جس سے دوستی میں کوئی اختلاف ہو۔ہم نے واضح کیا ہے کہ قوم چین کی دوستی پر فخر کرتی ہے ۔چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پاکستان کا معاشی مستقل روشن مستقبل سے تعبیر ہے ۔انہوںنے کہا کہ تحفظ حقوق نسواں بل میں اصلاح کی ضرورت ہے ۔یہ بل موجودہ صورتحال میں قابل قبول نہیں ۔وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں جو بھی باتیں ہوئی ہیں ۔منصورہ میں ہونے والے تمام دینی جماعتوں اجلاس میں قائدین کو آگاہ کروں گی ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب محرم کا مہینہ آتا ہے تو قوم کو پہلے 10دن جس ذہنی قرب سے گزرنا پڑتا ہے وہ سب کو علم ہے ۔اسی طرح 12ربیع الاول کو بھی صورتحال سب کے سامنے ہیں ۔ان حالات میں بعض اوقات حادثات ہوتے ہیں،نفرت پیدا ہوتی ہے ۔اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے کہ کوئی شخص کسی کے مذہبی تہوار منانے سے متاثر نہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں تشدد کے رحجانات زیادہ ہیں اس پر بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔حکومت سے علیحدگی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات اس نہج پر نہیں پہنچے کہ حکومت سے علیحدہ ہوں ۔ جب مسئلہ حل نہیں ہوتا اور راستہ نہیں نکلتا تو پھر حکومت سے الگ ہونے کی کی بات زیر بحث آتی ہے۔نیب کا ادارہ ڈکٹیٹر نے انتقام لینے کے لئے بنایا تھا اگر وزیر اعظم کی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تو پھر ضرور اس کے بار ے سوچنا ہوگا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…