بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

آئی جی پنجاب پولیس نے لیڈی اہلکاروں کو شلوار قمیص اور عبایا پہننے سے روک دیا

datetime 13  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک)انسپکٹرل جنرل آف پولیس پنجاب نے لیڈی اہلکاروں کو شلوار قمیص اور عبایا پہننے سے روک دیا جبکہ لیڈی اہلکاروں کو پینٹ اور شرٹس پر مشتمل نئی یونیفارم زیب تن کرنے کی ہدایت کی ہے خذف کرنیوالی اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے ایک سرکلر کے ذریعے پولیس میں بھرتی تمام لیڈی اہلکاران کو ہدایت کی ہے کہ ڈیوٹی کے دوران شلوار قمیض اور عبایا کی بجائے نئی ڈیزائن کردہ پینٹ اور شرٹس استعمال کریں اور عبایا کا استعمال ترک کردیں ۔ وگرنہ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس نئے حکمنامہ پر لیڈی اہلکاروں نے تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ اس حوالے سے خبر رساں ادارے نے جب چند علما ء سے رابطہ کیا توانہوں نے اس حکم نامہ پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی مملکت میں جن عوامل پر خاص طور پر توجہ دینے چاہئے اس ملک میں اس کے بالکل بر عکس کام ہورہا ۔ عورت کسی ہی ڈیوٹی کرے اسے اپنے لباس کو باوقار اور خود کو باپردہ رکھنا باعث فخر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ی کے پیشے سے منسلک سیکڑوں لیڈی ڈاکٹر نہ صرف عبایا استعمال کرتی ہیں بلکہ باقاعدہ طور پر برقع کا استعمال کرتی ہیں انہوں نے کہاکہ معاشرے میں قائم تمام اداروں میں مرد وزن اکھٹے کام کرتے ہیں مگر جو خواتین عبایا یا برقع استعمال کرتی ہیں ان پر کوئی قد غن نہیں لگائی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے سب سے بڑے آفیسرکا حکم غیر شرعی اور ناقابل عمل ہے ۔ حکومت کو آئی جی کی جانب سے جاری حکم نامہ پر ایکشن لینا چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…