بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ذوالفقار مرزا کو کس نے بغاوت پر اکسا یا تھا؟ اہم راز سے پردہ اٹھ گیا

datetime 12  مارچ‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک )نثار مورائی کی گرفتاری کوتجزیہ نگار عذیر بلوچ کی گرفتاری سے بھی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور کچھ شخصیات کیلئے اس گرفتاری کو عذیر بلوچ کی گرفتاری سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں، نثار مورائی کا نام عذیر بلوچ کی طرح زبان زدعام نہیں ہے لیکن نثار مورائی کا کام بہت آگے کا ہے، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سابق چیئرمین نثار مورائی کا سابق صدر آصف زرداری سے براہ راست تعلق رہا ہے اور وہ ان کے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں ۔نجی چینل کے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے میزبان شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ نثار مورائی نے زبان کھولی تو بہت سے اہم نام بے نقاب ہوسکتے ہیں، اس گرفتاری سے پیپلز پارٹی کی اہم سیاسی شخصیات میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ ذرائع کے مطابق نثار مورائی کی پہلے ذوالفقار مرزا سے دوستی ہوئی اور وہ سابق صوبائی وزیر کے قریبی دوستوں میں شمار ہونے لگے، سابق صوبائی وزیر کی وجہ سے ہی نثار مورائی کی سابق صدر آصف زرداری سے دوستی ہوگئی اور وہ ان کے بھی قریبی ساتھی سمجھے جانے لگے، نثار مورائی اور آصف علی زرداری کے تعلقات میں کشیدگی اس وقت آئی جب 2010ء میں ذوالفقار مرزا کی بغاوت کے بعد پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو یہ محسوس ہوا اور یہ الزام لگایا گیا کہ سابق وزیر داخلہ کو پارٹی سے بغاوت پر نثار مورائی نے بھی اکسایا ہے، مگر نثار مورائی نے جلد ہی سابق صدر آصف زرداری کو منالیا، اس کے بعد نثار مورائی کو نوازنے کیلئے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کا چیئرمین لگادیا گیا، اس کے علاوہ بھی نثار مورائی کو بہت سے ٹھیکے دیئے گئے۔ شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ ڈاکٹر نثار مورائی ، آصف زرداری کے ساتھ قتل کے ایک مقدمہ میں بھی شریک ملزم رہے ہیں، اسٹیل ملز کے سابق چیئرمین سجاد حسین کے قتل کیس میں نثار مورائی سابق صدر کے ساتھ شریک ملزم تھے، 2010ء میں سابق صدر تو بری ہوگئے لیکن نثارمورائی کو عدالت نے مفرور قرار دیا، ذرائع کے مطابق زمینوں پر قبضے، لوٹ مار، غیرقانونی بھرتیوں، منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں سے رابطوں کے الزامات کے باوجود نثار مورائی قانون کی گرفت سے باہر رہے مگر اب نثار مورائی قانون نافذکرنے والے اداروں کی گرفت میں ہیں ، سیاسی حلقے نثار مورائی کی گرفتاری کو بہت ساری اہم سیاسی شخصیات کیلئے خطرناک قرار دیتے ہیں، ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ نثار مورائی نے زبان کھولی تو بہت سے اہم نام بے نقاب ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…