بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم نے راول ڈیم میں چائنہ کٹنگ کا نوٹس لے لیا

datetime 11  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے راول ڈیم کی اراضی پر چائنہ کٹنگ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ راول ڈیم کی اراضی پر مکانات اور ریستوران کی تعمیرات کے معاملے کو اٹھایا تو اس کی گونج اعلی ایوانوں میں بھی سنائی دی جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے اب راول ڈیم کی اراضی پر چائنہ کٹنگ کا نوٹس لیتے ہوئے آج شام 5 بجے تک چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعظم نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ خود راول ڈیم کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیں اور آج ہی اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ قبضہ مافیا نے بنی گالہ کی طرف سے راول ڈیم کے کناروں پر حکام کی ملی بھگت سے جعلی رجسٹریاں بنوا کر ایسے پنجے گاڑھے کہ راول ڈیم ہی سکڑ کر رہ گیا اور ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی کم ہو گئی۔ مافیا نے راول ڈیم کے کناروں پر موضع لکھواں میں جعلی رجسٹریاں تیار کروا کے کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر گزشتہ کئی برسوں سے چائنا کٹنگ کے ذریعے قبضہ شروع کر رکھا ہے اور وہاں پر بڑے بڑے ریستوران، شاپنگ مالز اور کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی بنگلے بنا رکھے ہیں۔ دوسری جانب اسمال ڈیمز آرگنائزیشن کی جانب سے بارہا نوٹسز کے باوجود قابضین جگہ خالی کرنے سے انکاری ہیں۔ اس کے علاوہ آرگنائزیشن جعلی رجسٹریاں تیار کرنے والے نائب تحصیلداروں اقبال، ظہور، نعیم، اعظم خان اور اویس کے خلاف کارروائی کے لئے اسلام آباد انتظامیہ کو کئی خطوط لکھ چکی ہے لیکن اس کے باوجود ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حاصل دستاویزات کے مطابق اسمال ڈیمز آرگنائزیشن نے اسلام آباد انتظامیہ کو پہلا خط 2010 میں لکھا جب کہ 2015 میں ضلعی انتظامیہ کے محکمہ مال نے بھی ایک رپورٹ بھیجی کہ راول ڈیم کی زمین پر قبضہ ہو رہا ہے لیکن چیف کمشنر اسلام آباد اس پر بھی سوئے رہے۔ فروری 2016 میں اسمال ڈیمز آرگنائزیشن نے دوبارہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی توجہ اس جانب مبذول کرائی لیکن پھر بھی ڈی سی اسلام آباد کارروائی سے گریزاں رہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…