کراچی (نیوز ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما اور رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر صغیر احمد نے 28 سال کی وابستگی کے بعد ایم کیو ایم کو خیرباد کہا۔ڈاکٹر صغیر کا شمار ایم کیو ایم کے سینئر رہنماﺅں اور کراچی کی سیاست میں بڑی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ پہلی بڑی شخصیت ہیں جنہوں نے مصطفی کمال کی وطن آمد کے بعد ایم کیو ایم سے اپنے راستے الگ کیے ۔23 نومبر 1972 کو کراچی میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر صغیر احمد نے ڈاﺅ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا جس کے بعد انہوں نے بائیو کیمسٹری میں ایم فل کیا۔وہ تین مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن اور وزیر رہے ۔ پہلی دفعہ انہوں نے 2005 کے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور رکن سندھ اسمبلی بنے جس کے بعد وہ 2007 تک سندھ کے وزیر ماحولیات بھی رہے۔ڈاکٹر صغیر دوسری مرتبہ 2008 سے 2013 تک صوبائی اسمبلی کے رکن رہے جب کہ 2013 کے انتخابات میں بھی وہ کراچی سے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 117 سے 43 ہزار سے زائد ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔2008 سے 2014 تک وہ وقتا فوقتا صوبائی وزیرصحت کے عہدے پر کام کرتے رہے۔2014 میں ایم کیو ایم نے ان سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا تھا تاہم وہ موجودہ سندھ اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے محنت و افرادی قوت کے رکن ہیں۔
رکن ڈاکٹر صغیر احمد نے 28 سال کی وابستگی کے بعد ایم کیو ایم کو خیرباد کہا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق فیصلہ کرلیاگیا
-
یکم جولائی سے کن جائیدادوں کی خرید وفروخت نہیں ہو سکے گی؟ اہم خبر
-
ریو سیکریٹو
-
گھر داماد نے 4 سال تعلقات کے بعد بھاگ کر ساس سے کورٹ میرج کرلی
-
قیمتی الیکٹرک بائیک اب ہر شہری کی دسترس میں! حکومت کا بڑا فیصلہ
-
رواں سال مون سون بارشیں کم ہوں گی یا زیادہ؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا
-
جھنگ کی طالبہ ایشال فاطمہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہو گا؟ پنجاب حکومت نےمالی سال 27-2026کےبجٹ خدوخال کوحتمی ش...
-
بجلی سستی کر دی گئی، نوٹیفکیشن جاری
-
لاہور: بینک میں 5 کروڑ جمع کرانیوالے شہری سے 2 بینک ملازمین رقم لیکر فرار
-
لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں نجی اسپتال چھوڑ کر فرار ہونیوالے تینوں ملزمان گرفتار
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق نے واقعے کی تفصیلات بیان کردیں
-
لٹن داس دنیا بھر میں رضوان کو بدنام کرنے لگے



















































