بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

منگل اور بدھ بچوں کو سکول بھیجیں یا نہیں بھیجیں؟،معاملہ نیا رُخ اختیار کرگیا،اہم پیش رفت

datetime 7  مارچ‬‮  2016 |

لاہور ( نیوزڈیسک)پنجاب بھر کے 97فیصد سے زائد نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے سکول بند رکھنے کا فیصلہ مسترد کر دیا ،آج منگل اور کل بدھ نجی تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے ، نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد کے ساتھ مذاکرات کے بعد سکول کھلے رکھنے کا اعلان کر دیا ۔تعلیمی بورڈ لاہور میں صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خاں سے پرائیویٹ سکولز کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران نے ملاقات کی اور انہوں نے یقین دلایا کہ سکول کے بچوں اور ان کے والدین وسیع تر مفاد اور فروغ تعلیم کے کاز کی خاطر وہ تعلیمی ادارے بند رکھنے کے کسی عمل میں شرکی نہیں ہوں گے۔رانا مشہود احمد خاںنے نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں ادیب جادوانی ودیگر کے تحفظات غور سے سنے اور اس امر کی یقین دہانی کروائی کہ وہ 5 ہزار روپے تک فیس لینے والے نجی تعلیمی اداروں کی کیٹگری کو فیسوں کے ترمیمی بل سے مستثنی قرار دینے کے لئے وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کو سفارشات بھیجی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 97 فیصدنجی تعلیمی ادارے 5 ہزار سے کم فیس لینے والی کیٹگری میں آتے ہیں اور ان پر عملا فیسوں میں 5 فی صد اضافے کے بل کا اطلاق نہیں ہوتاوہ مقرر حد سے زیادہ اضافے کے لئے مقامی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کے ذریعے ایسا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف3 فیصد ایلیٹ سکول کے مالکان فیسوں میں 5 فیصد اضافے کے قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔محکمہ تعلیم نے ان مالکان کو 7 فیصد تک اضافے کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے فیس میں اضافے کی شرط کے طور پر ڈسٹرکٹ کمیٹیوں سے رجوع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت کو بچوں کے مستقبل اور ان کے والدین کے مالی مسائل کی فکر ہے اس لئے کسی بھی تعلیمی ادارے کو اپنی فیسوں میں بے تحاشا اضافے کی کسی صورت اجازت نہیں دی سکتی۔مذاکرات کے دوران صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن ادیب جادوانی کی قیادت میں ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔کمیٹی چند روز میں اپنی سفارشات پنجاب حکومت کو پیش کر دے گی۔جس کے مطابق حکومت فیسوں میں اضافے کے قانون میں ترمیم کا بل تیار کرےگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…