منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

ہندو میرج ایکٹ 2015 کااز سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، دینی سکالرز

datetime 7  مارچ‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) ہندو میرج ایکٹ 2015 کا اسلام کی روشنی میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے،ہندومیرج ایکٹ2015 شق 12 کی ضمنی شق چار کے مطابق اگر کوئی شادی شدہ ہندو جوڑا اپنا مذہب تبدیل کرلیتاہے تواس جوڑے کی شادی منسوخ ہوجائیگی مذکورہ بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینٹ میں بھیج دیاگیا ہے جبکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا کہنا ہے کہ ہم اس مسئلہ پربات چیت کرناچاہتے ہیں یعنی ہندومیرج ایکٹ 2015کی اس ضمنی شق نمبر(iv)کوختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف دینی سکالرز نے منعقدہ فورم میں کیا۔دینی سکالرزحافظ سلیم نعیمی، مولانااعجاز احمد اعجاز،شفیق جلالپوری، علامہ عنایت اللہ نے مزید کہا کہ اہل کتاب یعنی یہودو نصاریٰ کی عورتوں سے مشروط شادی کرنے کی اجازت دی ہے، باقی تمام مذاہب کی عورتوں سے ایک مسلمان کے لیے نکاح کرنا ہرصورت حرام ہے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…