بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کراچی حیدرآباد میں مصطفی کمال کے چرچے،عوام کاحیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

datetime 7  مارچ‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک) ایم کیو ایم کے سابق رہنما اور کراچی کے سٹی ناظم مصطفی کمال نے عوام سے رابطے اور اپنی نئی پارٹی کا پیغام پہنچانے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا۔مصطفی کمال نے سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹوئٹر اور فیس بک پر اپنے اکانٹ بنالیئے ہیں جس پر ان کے چاہنے والے اور ان کی نئی پارٹی میں شمولیت کے خواہش مند انہیں فالو کرسکتے ہیں جب کہ مصطفی کمال کی موجودہ رہائش گاہ کے باہر پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں جس میں ان کے سوشل میڈیا اکانٹ کی آئی ڈیز درج ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ عوام کی جانب سے بے پناہ پیار اور حمایت ملنے پر ان کے شکر گزار ہیں اور یہ چیز ان کے لیئے باعث افتخار ہے ،انشا اللہ وہ عوام کے ساتھ مل کر پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت کو واپس لائیں گے۔علاوہ ازیںکراچی کے بعد حیدرآباد میں بھی مصطفی کمال کی حمایت میں وال چاکنگ کردی گئی، شہر کے مختلف علاقوں میں کی گئی وال چاکنگ میں مصطفی کمال کو خوش آمدید کہا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق سٹی ناظم کراچی مصطفی کمال کی حمایت میں حیدرآباد میں بھی وال چاکنگ کردی گئی ہے، حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 9، ٹھنڈی سڑک، گل سینٹر، فاطمہ جناح روڈ سمیت دیگر علاقوں میں کی گئی وال چاکنگ میں ویلکم مصطفی کمال اور قدم بڑھاو¿ مصطفی کمال ہم تمہارے ساتھ ہیں تحریر کیا گیا ہے، بعض علاقوں میں مصطفی کمال کے حق میں کی گئی وال چاکنگ پر رنگ کرکے اسے مٹادیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…