بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

نجی سکول حکومت کے سامنے ڈٹ گئے، سکولوں کی دو دن بندش کا اعلان کردیا

datetime 6  مارچ‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن اورآل پاکستان ایجوکیشن کونسل نے پنجاب حکومت کی طرف سے نجی سکولوں کے حوالے سے اسمبلی سے منظور کئے جانے والے قانون کو مسترد کرتے ہوئے کل اورپرسوں(منگل اوربدھ کو) سکولوں کی بندش کا اعلان کر دیا ،نجی تعلیمی اداروں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فیسوں میں سالانہ پانچ فیصداضافہ کی پابندی قطعاًقبول نہیں اسے 10فیصد کیا جائے ، اگر حکومت نے ہمارے پر امن احتجاج کا نوٹس نہ لیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے ،طلبہ کے والدین نے پرائیویٹ سکولوں کی تنظیموں کی طرف سے سالانہ امتحانات کے دوران ہڑتال کے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نا مناسب فیصلہ قرار دیا ہے ۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن اور آل پاکستان ایجوکیشن کونسل نے حکومت سے ڈیڈلاک بر قرار رہنے کے بعد گزشتہ روز اپنا اجلاس منعقد کیا جس میں دونوں تنظیموں میں رجسٹرڈ نجی تعلیموں کو کل اورپرسوں (منگل اوربدھ) بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ان سکولوں میں بیکن ہاﺅس سکول سسٹم ،سٹی سکول ،لاہور سکول سسٹم ، ایجوکیٹرز ، امریکن لائسٹف ، ایل جی ایس ، لاہور پری سکول ، سمارٹ سکول ،اکیڈمیز اور دیگر سکول سسٹم شامل ہیں۔ ایجوکشن کونسل کے ترجمان کامران ملک نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب پنجاب حکومت نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے آرڈیننس لائی تھی ہم نے اس وقت اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی بنائی تھی ۔ لیکن حیرت ہے کہ ہمارا موقف سنے بغیر اور اس کمیٹی کی سفارشات لئے بغیر اس آرڈیننس میں قومے ،فل سٹاپ کو تبدیل کئے بغیر اسے پنجاب اسمبلی سے منظور کر اکے قانون بنا دیا گیا جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ ، نان ٹیچنگ سٹاف، انفراسٹر اکچر اورغیر نصابی سر گرمیوں کے اخراجات ہیں اور ان میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے جبکہ ہمیں سالانہ فیسوں میں صرف پانچ فیصد اضافے کا پابند کیا جارہا ہے جو ہمیں قبول نہیں ہمار امطالبہ ہے کہ ہمیں دس فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت اس قانون کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ نہیں کر رہی بلکہ ان کا گلہ گھونٹ رہی ہے ۔ ہم حکومت کی یکطرفہ پالیسی کو قبول نہیں کرتے ۔ حکومت پہلے فیصلے کر کے ہمارے ساتھ بیٹھنے کی بجائے کھلے دل اور دماغ کے ساتھ بیٹھے اور وہاں فیصلے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کی دو روزہ بندش کا نوٹس نہ لیا گیا تو ہم پھر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری طرف نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے والدین میں دو روزہ ہڑتال کی خبر سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ والدین کا کہنا ہے کہ سالانہ امتحانات کے دوران اس طرح کا فیصلہ قطعاً درست نہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…