بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

25 متحدہ رہنما نئی پارٹی میں شمولیت کیلئے تیار ، نام جان کر آپ حیران رہ جائینگے

datetime 5  مارچ‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک) ایم کیو ایم کے 25 سے زائد رہنماﺅں نے انیس احمد قائم کو نئی پارٹی میں شمولیت کی یقین دہانی کرائی ہے یقین دہانی کرانے والوں میں متحد ہ کی موجودہ اور سابقہ رابطہ کمیٹی کے 13 اراکین بھی شامل ہیں جو انیس احمد قائم خانی سیٹ اپ کا حصہ کہلاتے ہیں ، تفصیلات کے مطابق انتہائی باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انیس احمد قائم خانی نے دبئی میں قیام کے دوران کراچی میں اپنے سیٹ اپ کے لوگوں سے رابطے رکھے ہوئے تھے ، وہ ان دنوں رابطوں کیلئے زیادہ تر ایم اور اور Skype کیساتھ ساتھ کراچی کے ایک موبائل فون نمبرکا Whatsapp نمبر استعمال کرتے تھے ذریعے کا کہنا ہے کہ انیس احمد قائم خانی کے متحدہ چھوڑ نے کے بعد بھی الطاف حسین ان کا نائن زیرو اور پارٹی کے تنظٰمی سیٹ اپ میں نیٹ ورک نہیں توڑ سکے تھے۔ ذرایعے کا کہنا ہے کہ انیس احمد قائم

ایم کیو ایم کی سیاسی قیادت کا تاج کس کے سر سجے گا؟ الطاف حسین کی جانشینی کیلئے لڑی جانے والی جنگ کی اندرونی کہانی

خانی نے اپنے سیٹ اپ کے بیس سے زائد ایم این اے اور ایم پی اے بنوائے تھے۔ ان میں سے بیشتر الطاف حسین سے زیادہ انیس احمد قائم خانی کے وفادار تھے۔ انیس احمد قائم خانی کے متحدہ چھوڑ جانے کے باوجود ان سے مسلسل رابطے میں تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے موجود ہ اور سابقہ اراکین نے بھی ا نیس احمد قائم خانی سے برابطے برقرار رکھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…