بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

حقوق نسواں بل کا اثر ، گورنر سندھ نے اہم بیان دے دیا

datetime 5  مارچ‬‮  2016 |

کراچی (نیوزڈیسک)گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان نے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرے کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں سے ظاہر کیا کہ وہ کسی بھی طرح مَردوں سے کم نہیں ہیں ۔ ترقی یافتہ معاشرے میں مَردوں کے ساتھ خواتین کا کردار اہمیت کا حامل رہا ہے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لانے کیلئے خواتین کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیڈیز فنڈویمنز ایوارڈ کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین تعلیم، صحت ، معیشت اور دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور بعض شعبوں میں وہ اپنی کارکردگی، نظم و ضبط، محنت اور لگن کے باعث مَردوں سے کہیں آگے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی تعمیر و ترقی خواتین کی بھر پور شمولیت اور شرکت سے مشروط ہوتی ہے اور کسی بھی قوم کی معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف ان کے بغیر حاصل نہیں کئے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار خواتین کی معاشی ترقی اور انہیں پیروں پر کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر خواتین کو ایسے کاروبار کے لئے قرضہ اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے کئی اقدامات کررہی ہے اور مختلف سرکاری محکموں میں خواتین کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں ۔ گورنر سندھ نے مختلف شعبوں خصوصاً تعلیم کے میدان میں لیڈیز فنڈ کی خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ فنڈ کے ساتھ حال ہی میں بصارت سے محروم اور دیگرمعزوریوں کا شکار بچوں کو تعلیم دینے کیلئے ” ایک لڑکی کو پڑھاؤ ” پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کوملازمت دلانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ہمارے معاشرے کی نصف آبادی اس کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے۔ فنڈ کی سربراہ محترمہ عطیہ داؤد نے بتایا کہ فنڈ کے تحت نہ صرف خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے بلکہ انہوں نے تربیت دینے کے ساتھ ساتھ کاروبار چلانے کیلئے بھی تکنیکی معاونت دی جاتی ہے۔ انہوں نے گورنر سندھ کو فنڈ کے مختلف شعبوں کے بارے میں بھی بتایا۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین میں ایوارڈز تقسیم کئے گئے۔اس موقع پرمعروف آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے بھی خطاب کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…