جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

کراچی بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری میں لگنے والی آگ کیسے لگی؟فیکٹری مالکان سے وصول کی گئی رقم کس کے پاس ہے؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

کراچی (نیوزڈیسک) کراچی کی بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری میں لگنے والی آگ منظم دہشت گردی تھی۔ پنجاب فارنزک لیب نے آگ آتش گیر مادہ سے لگنے کی تصدیق کی ہے۔ فرنیشنگ ڈیپارٹمنٹ کے انچارج زبیر نے فیکٹری میں آگ لگائی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق سانحہ کے بعد سیاسی جماعت کی جانب سے فیکٹری مالکان پر دباﺅ برقرار رکھا گیا۔ مالکان کی ضمانت کے بعد سیاسی جماعت کی جانب سے شدید دباﺅ ڈالا گیا۔ فیکٹری مالکان نے دباﺅ کے باعث معاملہ طے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مالکان نے ایک دوست کے ذریعے ایم کیو ایم کے اس وقت کے مرکزی رہنما انیس حسین قائم خانی کے قریبی ساتھی محمد علی حسن سے رابطہ کیا۔ مالکان اور سیاسی جماعت میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کو معاوضہ دینے پر معاملہ طے ہوا۔ سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے متاثرین کو 5 کروڑ 98 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مالکان نے حیدرآباد میں صدیق حسن قادری کے اکاﺅنٹ میں پیسے جمع کرائے۔ تاجر قادر حسن نے بتایا کہ پیسے انیس قائم خانی کو بھیج دیئے گئے ہیں۔ تمام پیسہ حسن قادر اور انیس قائم خانی کے لے پالک بیٹے ڈاکٹر عبدالستار کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ کروڑ روپے سے حیدرآباد میں ایک ہزار گز کا پلاٹ خریدار گیا۔ رپورٹ میں سرکار کی طرف سے درج پرانی ایف آئی آر واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے اور پاکستان پینل کوڈ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ مقدمہ میں رحمان گولا، حماد صدیقی، زبیر سمیت دیگر ملزمان کو شامل کیا جائے اور مفرور ملزمان کو واپس لایا جائے جبکہ تمام ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کرکے نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…