کراچی(نیوز ڈیسک)لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق عزیر بلوچ کے غیر ملکی خفیہ اداروں سے مضبوط روابط رہے اہم سیاسی رہنما نے رحمان ڈکیت کو پولیس کے ہاتھوں مروایا خالد شہنشاہ کو بلاو¿ل ہاوس سے زبردستی باہر بھیج کر قتل کرایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے غیرملکی خفیہ ادارے سے روابط کا اعتراف کیا اور کہاکہ مختلف سرکاری محکموں میں بھرتیوں اورعلیحدگی پسند بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کو لیاری میں روپوش کرائے جانے میں بھی وہی ملوث تھا۔عزیزبلوچ نے لیاری کے دو ارکان سندھ اسمبلی کو اپنا حلف یافتہ بھی قرار دے دیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے ہمسایہ ملک کی خفیہ ایجنسی سے روابط کا اعتراف کیا ہے اورفرار کے بعد اسی ایجنسی کی مدد سے وہ پہلے ایران پھر مسقط اور پھر دبئی پہنچا تھا جہاں پیپلزپارٹی کے بعض اہم رہنماو¿ں نے اس سے رابطہ بھی کیا لیکن عزیر بلوچ کہتا ہے کہ وہ صرف آصف علی زرداری سے مل کر اختلافات کے حوالے سے بات کرنا چاہتا تھا جو ممکن نہ ہوسکا۔دوران تفتیش عزیر بلوچ نے کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور مطلوب ترین علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو لیاری میں روپوش کروائے جانے کا بھی اعتراف کیا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ نے محکمہ لیبر پولیس اور فشریز میں بھرتیاں کروانے اور فشریز کے گرفتار وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی سے اسلحے کی خریدو فروخت کا بھی انکشاف کیا ہے۔عزیر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ پیپلزپارٹی نے لیاری میں ثانیہ ناز، جاوید ناگوری اور عدنان بلوچ کو اسی کے کہنے پر ٹکٹ دیئے اور یہ بھی بتایا کہ لیاری سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والی ثانیہ ناز اور جاوید ناگوری عزیر بلوچ کی وفاداری کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ دریں اثنا عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات فوجی عدالت کو بھجوانے کا فیصلہ کر لیا گیا نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کیا جائے گا عزیر بلوچ کا تعلق بھی کالعدم تنظیم سے ہے۔ذرائع کے مطابق نیشنل ایکشن پلان میں طے کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔ اسی فیصلے کے تحت کالعدم امن کمیٹی کے سرپرست عزیر بلوچ کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو بھیجے جائیں گے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج نے 15 روز میں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی مکمل ہونے کے بعد وزارت داخلہ سے فوجی عدالت کو کیس بھیجنے کی منظوری لے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کے مقدمات 90 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی فوجی عدالت کو بھیجے جاسکتے ہیں
عزیر بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات مقدمہ فوجی عدالتوں کو بھجوانے کا فیصلہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا پی ٹی آئی کا سرگرم رکن ہلاک، اہم انکشافات سامنے آگئے
-
سکول کب کھلیں گے؟ وزیرتعلیم پنجاب نے اعلان کردیا



















































