پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت نے زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرکے سب کو حیران کردیا،زلزلہ تباہ کن ضرور تھا مگر اس قدر بھی نہیں کہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت اپنے وسائل سے اس مسئلے سے نہ نمٹ سکتی۔خیبرپختونخوا حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے بھی امداد کی اپیل کردی ہے اور واضح کیا ہے کہ دیربالا اور چترال سمیت بالائی علاقوں میں شدید سردی اور برفباری کے پیش نظربے گھر خاندانوں کو محفوظ پناہ گاہوں ، غذائی اشیاءاور طبی امداد کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی ناگزیر ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت کو عالمی برادری اور بین الاقوامی این جی اوز کی مدد بھی درکار ہے تاہم یہ امداد محض پیشکشوں، وعدوں اور اور یقین دہانیوں کی بجائے عملی صورت میں اور فوری بنیادوں پر ہوجانی چاہئے صوبائی سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے دیر بالا میں مسلسل تیسرے روز زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران یہ باضابطہ اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے زلزلہ کے فوری بعد ریسکیو اور ریلیف کا عمل شروع کیا اور مشترکہ امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا گیا جبکہ زلزلہ زمین کی زیادہ گہرائی میں ہونے کے سبب پہلے کی نسبت کم نقصانات کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا مگر اب یہ حقیقت بھی سامنے آگئی ہے کہ حالیہ زلزلہ دیر، شانگلہ اور چترال سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں 2005ئ کے زلزلے سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے جہاں سینکڑوں انسانی اموات اور ہزاروں زخمی ہونے کے علاوہ لاتعداد خاندان بے گھر ہو کر سخت سردی اور برفباری میں کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے بتایا کہ صرف دیر اپر میں زلزلہ سے ابتدائی سروے کے مطابق 50سکول مکمل تباہ ہو گئے، 127سکولوں کو جزوی نقصان پہنچا، دو ہزار سے زائد گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے اور سینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی تلف ہوئے جبکہ بی ایچ یوز، ڈسپنسریوں اور طبی سہولیات کا بھی ستیاناس ہوگیا ہے شدید غربت کے باعث زلزلہ متاثرین کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھی مشنری جذبے سے انکی جلد از جلد مدد میں ہماری بھرپور مدد کرے عنایت اللہ نے جو جماعت اسلامی کے صوبائی پارلیمانی لیڈربھی ہیں اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ انکی جماعت اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے علاوہ بعض ملکی و مقامی این جی اوز بھی ریلیف کے عمل میں شریک ہو گئی ہیں تاہم زیادہ نقصانات اور متاثرین کی شدید ضروریات کے مقابلے میں حکومت اور انکی مدد آٹے میں نمک کے برابر بن جاتی ہے انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض عالمی اداروں نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے صوبائی حکومت اور خود ان سے بھی رابطے کئے ہیں تاہم متاثرین کو فوری ریلیف اور بحالی کی اشد ضرورت ہے ورنہ شدید سردی سے بھوک، بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور المیے بھی جنم لے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع دیر بالا میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھی صورتحال کافی گھمبیر ہو گئی ہے نقصانات ہمارے اندازے سے بھی زیادہ ہیں یہاں سینکڑوں بے گھر خاندانوں کیلئے عارضی پناہ گاہوں، خوراک، ادویات اور دیگر سہولیات کا ہنگامی بنیادوں پر بندوبست لازمی ہے ان تمام ناگزیر ضروریات کی تکمیل اکیلے ہماری حکومت کے بس میں نہیں اور ہمیں عالمی تعاون بھی درکار ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے امداد کی اپیل کردی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)
-
راولپنڈی: مشہور ٹک ٹاکر خاتون کو گھر سے بلاکر ہلاک کردیا گیا، چھوٹی بہن بھی زخمی
-
متحدہ عرب امارات نے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل پروازیں منسوخ کردیں
-
وزیر خزانہ کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق اچھی خبر سامنے آگئی
-
بیوی نے شوہر کو نیند کی گولیاں کھلا کر بلّے سے پیٹا اور زندہ دفنا دیا
-
عمرہ زائرین کے لیے سعودی حکام کی اہم ہدایت، مسجد الحرام جانے سے پہلے یہ بات جان لیں
-
لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ، باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت،ٹارگٹ کلر کی بیٹی بھی زیر حراست، تفتیش میں ا...
-
ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن حق پر عدالت کا بڑا فیصلہ
-
رونالڈو اور جورجینا نے شادی سے پہلے کیا اہم معاہدہ کیا؟
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
-
اسٹیج اداکارہ عروج سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج
-
1500 اور 100 روپے کی قرعہ اندازی پرائز بانڈز رکھنے والوں کیلئے خوشخبری آ گئی
-
کرن اشفاق کے عمران اشرف سے متعلق جواب نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی



















































