جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

پنجاب اسمبلی کے ممبران کو ایک بار پھر”نواز“دیاگیا،مقامی حکومتوں کا ترمیمی مسودہ بھی منظور

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی چار ترامیم کو مسترد کر کے مقامی حکومتوں کا ترمیمی مسودہ قانون کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ،فوڈا تھارٹی اور پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے ترمیمی اور سپیشل پروٹیکشن یونٹ پنجاب آرڈیننسز کی مدت میں قرارداد کے ذریعے 90روز کی توسیع لے لی گئی ،پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دو کارکنوں کے قتل کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی سے واک آﺅٹ کیا ، تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کے لئے حکومتی اور اپوزیشن اراکین ایک مرتبہ پھر متحد ہو گئے تاہم وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ ممبران کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دےدی گئی ،تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں پر مشتمل کمیٹی سے مشاورت کے بعد اس پر عملدرآمد ہو جائے گا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روزاپنے مقررہ وقت کی بجائے تین گھنٹے کی غیر معمولی تاخیر سے اسپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں محکمہ صحت سے متعلق سوالوں کے جوابات دیئے جانے تھے تاہم پارلیمانی سیکرٹری برائے ہیلتھ خواجہ عمران نذیر کے اپنے کسی عزیز کے انتقال کے باعث ایوان میں نہ آنے کیوجہ سے وقفہ سوالات موخر کردیا گیا۔اجلاس میں 3آرڈیننسز کی مدت میں توسیع کی قراردادوں کی ایوان سے کثرت رائے سے منظور لی گئی جن میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس،پنجاب سپیشل پروٹیکشن یونٹ آرڈیننس اورپنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس 2015شامل ہیں۔اجلاس میں 4 آرڈیننسزایوان میں متعارف کرائے گئے جنہیں بعد ازاں متعلقہ قائمہ کمیٹیز کے سپرد کردیا گیا ان میں پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشز (پروموشن اینڈ ریگولیشن) ترمیمی آرڈیننس،علی انسٹیٹیوٹ آ ف ایجوکیشن لاہور ترمیمی آرڈیننس، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان دوسرا ترمیمی آرڈیننس اور پنجاب اربن ایمووایبل پراپرٹی ٹیکس ترمیمی آرڈیننس2015ءشامل ہیں۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی چار ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کر کے مسودہ قانون ترمیمی مقامی حکومت پنجاب 2015ءکی منظوری دیدی گئی ۔قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عجلت میں بل لارہی ہے اسے پہلے عوام الناس کے لئے مشتہر کرنا چاہیے تھا،اختیارات ابھی بھی بیوروکریسی کے پاس ہیں ،نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی نظر نہیں آتی۔شنیلہ رتھ نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ختم کرے اور انہیں ووٹ کا حق دے ۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ بل پر اپوزیشن کی جانب سے بے جا تنقید اس بات پر عملی ثبوت ہے کہ انہوں نے اس بل کا ابھی تک مطالعہ ہی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پورے پراسیس کے بعد مکمل کیا ہے اور یہ پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا س بل میں اقلیتوں اور خواتین کیلئے کسی بھی نشست کیلئے الیکشن لڑنے پر کوئی پابندی نہیںتاہم سپیشل سیٹ ان کی نمائندگی کیلئے رکھی گئی ہیں۔پنجاب کے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ با اختیار بنایا گیا ہے ۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے بل ایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کیا ۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند رو ز میں پی ٹی آئی کے دو کارکنوںکو شہید کیا گیا جبکہ شاہ کمال کے علاقے میں ایک کارکن کو زخمی کیا گیا ۔ پولیس نے این اے 122کا انتخاب جیتنا اپنے لئے مسئلہ بنا لیا ہے ۔ پنجاب کی پولیس اور دیگر اداروں کو الیکشن مہم میں لگا کر الیکشن جیتنے کا ٹارگٹ دیاگیا ہے جو سراسر زیادتی ہے ۔ ڈرگ انسپکٹرز میڈیکل سٹورز پر فلیکسز لگوا رہے ہیں ۔ اس دوران حکومتی بنچوں نے اراکین اسمبلی نے کھڑے ہو کر اونچی آواز میں بھولنا شروع کر دیا اور جھوٹے جھوٹے کے نعرے لگانا شروع کر دیا اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا تاہم میاں محمود الرشید نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ جن دو افراد کو ہلاک کیا گیا اگر ان کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو یہ بہت خونی الیکشن ہوگا ۔ حکومت ہوش کے ناخن لے ۔ پولیس کے ذریعے غنڈہ گردی کی انتہا کی جارہی ہے ، پولیس کو روکا جائے ، پولیس گردی نہیں چلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ فری اینڈ فیئر الیکشن نہیں،لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے ہم اس کے خلاف اسمبلی سے واک آﺅٹ کرتے ہیں جس کے بعد تحریک انصاف سے تعلق رکھنے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…