منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

سپرماڈل ایان علی کیخلاف اہم حکم جاری

datetime 6  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے سپرماڈل ایان علی سے پکڑی گئی کرنسی اسٹیٹ بینک میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے شفاف انداز میں کیس کی پیروی کی ہدایت کی ہے اور1998ءسے 2005ءتک پکڑی گئی 205 گاڑیوں کی نیلامی اور ان پر مقدمات کی تفصیلات طلب کر لی ہیںجبکہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹمپرڈ گاڑیوں کی عام نیلامی نہیں کی جاتی بلکہ سرکاری محکموں کو نیلامی کے خطوط ارسال کئے جاتے ہیں، اگر کوئی سرکاری محکمہ یہ گاڑیاں نہ خریدے تو انہیں کاٹ کر اسکریپ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس منگل کویہاں پارلیمنٹ ہاو ¿س میں چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف بی آر کے 2010ءاور 2011ءکے مختلف آڈٹ پیراز کو نمٹایا گیا۔ چیئرمین نے نظامت اعلیٰ آڈٹ کسٹم و پٹرولیم لاہور کی جانب سے نیلام کی گئی گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ کمیٹی نے ایک ارب 39 کروڑ 86 لاکھ روپے کی بینک گارنٹی کی نان انکیشمنٹ کے معاملہ پر محکمانہ آڈٹ کمیٹی (ڈی اے سی) کے دوبارہ انعقاد کا حکم دیا۔ ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل کے اعداد و شمار میں واضح فرق پایا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے آڈیٹر جنرل سے کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کرائیں۔ اگر آڈٹ یا ایف بی آر کی غلطی ہے تو پارلیمنٹ کو سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔ ڈاکٹر عارف علوی کے سوال پر ایف بی آر کے محکمہ کسٹم کے حکام نے بتایا کہ محکمہ ایان علی کے کیس میں اپنا موقف تب پیش کرے گا جب عدالت طلب کرے گی۔ ابھی تک ان کا چالان بھی پیش نہیں کیا گیا، ان سے بازیاب ہونے والی رقم جمع ہے۔ کمیٹی نے پکڑی گئی فارن کرنسی اسٹیٹ بینک میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایان علی کے کیس کی پیروی شفاف انداز میں کی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پکڑی گئی ٹمپرڈ گاڑیوں کے حوالے سے یہ پالیسی ہے کہ ان کو توڑ پھوڑ کر

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…