بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

نندی پور پراجیکٹ میں تاخیر کی تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) آڈیٹر جنرل پاکستان نے نندی پور پراجیکٹ میں تاخیرکا باعث بننے والے عوامل کا کھوج لگانے کیلئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دیدی ہے جو اپنی تحقیقات 10روز کے اندر مکمل کریگی اور اس پراجیکٹ کو ناکام بنانے والے کلیدی افراد کا تعین کریگی۔ مذکورہ کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد وزیراعظم کی جانب سے بعض اعلیٰ حکام کی برطرفی متوقع ہے۔جنگ رپورٹر مہتاب حیدر کے مطابق آڈیٹر جنرل پاکستان کی تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی نندی پور پراجیکٹ میں تاخیر کاباعث بننے والے عوامل کا جائزہ لے گی، لاگت کا مقررہ حد سے تجاوز کی وجوہات جانے گی اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کریگی چاہے ان کا تعلق وزارت پانی وبجلی سے ہو، جینکوز، نیپرا یا نندی پور پراجیکٹ سے ہو، آڈیٹر جنرل پاکستان رانا اسد امین نے ”قومی اخبار“ کو بتایا کہ تحقیقات مذکورہ بالا تین پہلوﺅں کا احاطہ کریگی اور دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کردی جائیگی۔خصوصی ٹیم نےاپنا کام شروع کر دیا ہے۔ چند روز رپورٹ کی تیاری میں لگ جائینگے لہٰذا دو ہفتے میں اس کمیٹی کی رپورٹ آ جائے گی، وزیراعظم نے اس پراجیکٹ کا خصوصی آڈٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ پراجیکٹ چینی کمپنی کی مدد سے پرویز مشرف دور میں شروع کیا گیا تھا جس کی لاگت22ارب روپے تخمینہ لگایا گیا تھا۔ جو اب58ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ لاگت میں اضافہ سے متعلق سینئر کام کا کہنا ہے کہ بعض لوگ زرمبادلہ کی بڑھتی ہوئی قیمت کی روشنی میں اس کا تقابل کر رہے ہیں، جس کے باعث یہ لاگت زیادہ بنتی ہے، کیونکہ پرویز مشرف دور میں امریکی ڈالر67روپے کے برابر تھا، پی پی دور میں یہ پراجیکٹ نظر انداز کیا گیا اوراس کی مشینری کئی ماہ تک کراچی بندرگاہ پر پڑی رہی۔ ن لیگ نے برسراقتدار آنے کے بعد اس پراجیکٹ کو عجلت میں شروع تو کر دیا مگر فیول آئل ٹریٹمنٹ پلانٹ کی صلاحیت کا تعین نہیں کیا گیا۔اس پلانٹ کو ای پی سی کنٹریکٹر فرنس آئل سپلائی کرتا ہے، اس پلانٹ نے ستمبر2014ئ میں کام شروع کیا، تاہم اس پلانٹ نے مطلوبہ اہداف حاصل نہ کیے۔پراجیکٹ کے انجینئرز پر معاملہ ای پی سی کنٹریکٹر کے پاس لے گئے اس دوران وزارت پانی وبجلی نے مئی2015ئ میں ایک انکوائری شروع کر دی تاکہ معاملہ وجوہات اور اس کا حل تلاش کیا جا ئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نندی پور پراجیکٹ کی انتظامیہ اور بورڈ ایک صفحہ پر نہیں، انتظامیہ بعض معاملات کو دبانا چاہتی ہے جبکہ بورڈ کے ارکان پلانٹ کی صلاحیت بڑھائے بغیر قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان پہنچانے کے حق میں نہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے پر الزامات دھرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے مگر حکومت کو حقائق آشکار کرنا ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…