پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

کیا آپ پسینے اور بالوں سے بھری چیزیں کھائیں گے؟

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) انتظامیہ کل بالاآخر حرکت میں آئی۔ ایک منصوبہ بنایا گیا، افسران جمع ہوئے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ساجد چوہان اور مشہورِ زمانہ عائشہ ممتاز کو بریفنگ دی گئی۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں وفاقی دارالحکومت میں کھانے پینے کے تمام آو¿ٹ لیٹس کے خلاف ایک منظم کارروائی شروع ہوگئی۔دارالحکومت کے کئی نامور ریسٹورنٹ بدنام ہوگئے، بدنام بیکریاں رسوا ہوگئیں، اور وہ فیکٹریاں جہاں پر بچوں کو مزدور بھرتی کیا گیا تھا، انہیں سیل کر دیا گیا: بچوں سے مشقت کروانے کے لیے نہیں، بلکہ ان کے پیروں سے آٹا گندھوانے کے لیے۔ جی ہاں، ہم واقعتاً یہی چیزیں روز کھاتے ہیں جن میں آنسو، بال، اور پسینہ ملا ہوا ہوتا ہے۔گندگی اور پسینے کی یہ کہانی صرف اسلام آباد کے مشہور ریستورانوں کی نہیں جہاں پر ہم دعوتیں اڑاتے ہیں۔ اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر پوٹھوہار نشا ءاشتیاق بھی اپنے علاقے میں میڈیکل اور سینیٹری انسپکٹر کے ساتھ مہم پر نکلیں۔انہوں نے چار فیکٹریاں اور سڑک کنارے قائم چار ہوٹل سیل کیے، جبکہ ایک پیزا ریسٹورنٹ پر انتہائی گندگی کی وجہ سے جرمانہ عائد کردیا۔ غلیظ حالات میں کھانے کی اشیائ تیار کرنے پر مالکان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئیں۔نشاءاشتیاق نے بتایا کہ “بیکری مصنوعات فرش پر جانوروں کے قریب پڑی ہوئی تھیں۔ چرچل نے کہا تھا کہ اپنا خون، پسینہ، اور آنسو دو، یہ فیکٹریاں اس مقولے پر حقیقت میں عمل کر رہی ہیں۔”ہم میں سے کوئی بھی کھانے کی تیاری میں صفائی اور صحت کے بارے میں فکرمند نہیں ہوتا تھا اور اب بھی نہیں سوچتا۔ ہمارے پاس اب بھی ایسا نظام نہیں ہے جس میں کھانے پینے کی جگہوں پر باقاعدگی سے نظر رکھی جائے اور انہیں ان کے معیار کے مطابق گریڈ دیا جائے۔ لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ ایسا سسٹم تیاری کے مراحل میں ہے۔چائے خانہ اور سیور فوڈز جیسے مشہور نام سیل کر دیے گئے، جبکہ عام طور پر لوگ ان میں سے کچھ جگہوں کے صاف ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ جو بھی ہو، اسلام آباد کی ان مشہور جگہوں میں اچانک ایک منظم کارروائی نے ہوٹل مالکان میں کھلبلی مچا دی، جن میں سے کئی چھاپے سے بچنے کے لیے فوراً ہوٹل بند کر کے فرار ہوگئے۔اسلام آباد انتظامیہ عام طور اپنی کاہلی اور اقربائ پروری کے لیے جانی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام کو ان سے کوئی خاص امید نہیں۔فرش سے چھت تک کرپشن سے بھرے ہوئے سرکاری اداروں کی طرح اسلام آباد انتظامیہ کو بھی اس کے اپنے لوگوں کے علاوہ کوئی اچھا نہیں سمجھتا۔ توانائی سے بھرپور نوجوان افسران یہاں آتے ہیں اور “افسر شاہی” کے دہائیوں پرانے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ جلد ہی گردن میں مشہورِ زمانہ سریا آجاتا ہے۔یوں تو ان کارروائیوں نے لوگوں میں جوش بھرتے ہوئے مالکان میں کھلبلی مچا دی ہے، لیکن طویل مدت میں اس کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔وفاقی دار الحکومت میں ماضی قریب میں انتہائی عجیب پالیسیاں ترتیب دی گئیں جیسے کہ دکانوں کو 8 بجے بند کرنا، پھر 9 بجے بند کرنا، مگر نہ ہی انہیں نافذ کیا گیا اور نہ ہی کسی نے اس پر کان دھرے۔ہمیں مسائل پر ہنگامی اقدامات کے بجائے طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ ان اقدامات کو بھلا دیا جائے گا اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ کھانے پینے کی جگہوں کے لیے گریڈنگ سسٹم تیار کرنے، اور انہیں اسے اپنے دروازے پر لٹکانے کے لیے مجبور کرنا کوئی انتہائی مشکل کام نہیں، صرف وسائل کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔پہلا قدم اٹھایا گیا ہے۔ آخر کار کسی نے ہمارے بچوں کی اور ہماری صحت کے ساتھ کھیلنے کے خلاف قدم اٹھایا ہے۔ امید ہے کہ یہ آخری قدم نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…