جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے، پاکستانی صوبہ بنانے کی کوشش نہیں ہورہی، سیکریٹری خارجہ

datetime 7  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم معاملہ ہے، پاکستان اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتا ، کشمیری مسئلے کی بنیادی فریق ہیں،کشمیریوں کو موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں ، گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے، گلگت بلتستان کو پاکستانی صوبہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ، ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد میں کشمیری صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے پاکستان مسئلہ کشمیر پر کمپرومائز نہیں کرے گا، کشمیر کا مسئلہ 1947ء کے تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ کشمیریوں کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو رائے شماری کا متبادل تصور نہیں کرتا اقوام متحدہ کی قرار دادیں ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں مسئلہ کشمیر پر لچک دکھائی تھی بیک چینل ڈیلوسی کے ذریعے انہوں نے کئی تجاویز بھی دی تھیں 4نکاتی فارمولہ اور دوسری تحاریر کبھی بھی باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں رہی ہیں۔

مزید پڑھئے: وزیر اعظم کے اہم ساتھی کیخلاف تحقیقات کا آغاز

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ نہیں بنایا جارہا ہے قومی اخبار کے مطابق گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بھارت کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا کہ روس کے شہر اوفا میں پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات میں مسئلہ کشمیر زیر بحث نہیں آیا۔ اعزاز احمد نے کہا کہ نواز شریف اور نریندر مودی کی اوفا ملاقات میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب کے سامنے پاکستان میں را کی مداخلت ، ماہی کیروں کی رہائی اور ایل او سی ورکنگ باﺅنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری خارجہ نے پاکستانی قیادت کی طرف سے حریت رہنماوں سے ملاقات پر بھارتی اعتراض مسترد کر دیا اور کہا کہ بھارت سے اعتراض کا کوئی جواز موجود نہیں ہے ماضی میں ایسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں حریت رہنماﺅں کو ہر اہم موقع پر نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن مدعو کیا جاتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…