اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں سائبر قانون کا نفاذ قریب تر ہے اور اس کے حتمی مسودے میں ترمیم کے بعد بھی سخت سزائیں برقرار رکھی گئیں ہیں۔قانون ماہرین ، سیکورٹی ایجنسیوں ، پی ٹی اے اور قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کے تفصیلی جائزے کے بعد پارلیمانی کمیٹی کو اس قانون کا حتمی مسودہ مل گیا ہے۔ جنگ کے رپورٹر وسیم عباسی کے مطابق مذکورہ قانون کے حتمی مسودے کی ایک نقل دی نیوز کے پاس بھی موجود ہے ، سول سوسائٹی کی تنقید کے باوجوداس میں غیر قانونی طور پر ڈیٹا تک رسائی ، لوگوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں کرنے(سائبر اسٹاکنگ)، بذریعہ انٹرنیٹ چکمہ دے کر ناجائز فائدہ اٹھانا(اسپوفنگ)، اور انٹرنیٹ پر بلادریغ ایک ہی پیغام کی کئی انٹرنیٹ صارفین پر بھرمار کرنے(اسپیمنگ)پر قید کی سزائیں برقرار رکھی گئیں ہیں۔ حتمی مسودے میں بھی سنگین نوعیت کے جرم کی صورت میں سیکورٹی ایجنسیوں کو عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ڈیٹا اور آلات ضبط کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم اس آپریشن کیلئے گزیٹڈ افسر کو بھیجا جائیگا۔ سائبر اسٹاکنگ پر2سال تک قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی۔ مسودے کے مطابق سائبر اسٹاکنگ سے متاثرہ شخص کو اتھارٹی سے مخصوص معلومات تک رسائی ختم کرنے ، یا اس معلومات کو ختم کرنے یا انٹرنیٹ سے ہٹانے کی درخواست کا اختیار حاصل ہے۔ اسپیمنگ کے جرم پر 3 ماہ قیداور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی۔ تاہم مسودہ قانون کے مطابق اسپیمنگ میں قانون کی جانیوالی مارکیٹنگ یا وہ معلومات شامل نہیں ہیں، جن کے حصول کو خود وصول کنندہ نے منقطع کرایا ہو۔ اسپوفنگ کے جرم میں 3 سال تک قید اور 5 لاکھ جرمانے کی سزا ہوگی۔ تاہم سول سوسائٹی اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والے اداروں کو اس ضمن میں تھوڑی بہت رعایتیں دی گئیں ہیں۔ وہ کاروبار ی مراکز بمشول ہوٹلز اور کافی شاپس وغیرہ جوکہ اپنے صارفین کو مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرتے ہیں، انہیں اپنے صارفین کے ڈیٹا کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کی شرط مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ اس قانونی مسودے کے مطابق مجوزہ قانون کا اطلاق صرف سائبر کیفیز پر ہوگا ، جوکہ رقم کی ادائیگی کے عوض انٹرنیٹ سروس فراہم کرتے ہیں، اور انہیں ایک مخصوص وقت تک اپنے صارفین کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس مسودے میں واضح کیا گیا ہےکہ وہ ڈیٹا جس تک عام شہریوں کو رسائی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، اس کی رسائی جرم نہیں ہوگی۔ اس مسود ہ قانون کے تحت نابالغ مجرموں کی عمر کی حد 10سال سے بڑھاکر13برس کردی گئی ہے۔ مجوزہ قانون میں 21سا ئبر جرائم میں قید کی سزائیں رکھی گئیں ہیں۔ مجوزہ قانون سائبر قوانین کے متعلق عدالت کو ماہرانہ رائے فراہم کرنے کیلئے ایک آزاد فرانزک لیباٹری کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے ، جس کی انتظام کاری اور نگرانی کیلئے وفاقی حکومت ضابطے مرتب کریگی، جس میں افسران کی اہلیت اور تربیت، فرانزک لیباٹری کے ماہرین اور عملہ،فرانزک لیباٹری کے اختیارات ، تفویض شدہ امور و ذمہ داریاں ، اسکے ماہرین اور عملہ اور تفتیشی ایجنسی اور استغاثہ سے تبادلہ خیال کرنے کیلئے فرانزک لیباٹری کیلئے رہنما اصول وضع کرنا شامل ہے
سائبر قانون ، ترمیم کے بعد بھی حتمی مسودے میں سخت سزائیں برقرار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے فی من گندم کی نئی قیمت مقرر کردی، نوٹیفکیشن جاری
-
تہران میں کیا دیکھا(دوم)
-
نیشنل سیونگ سرٹیفیکیٹ اسکیم؛ ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر کتنا منافع ملے گا؟ اہم خبر آگئی
-
ٹی20 ورلڈ کپ، آئی سی سی کا بنگلادیش کے خلاف بڑا فیصلہ
-
ٹی 20 ورلڈکپ کےلیے پاکستان کا 15 رکنی سکواڈ فائنل ہوگیا
-
معاہدے کے برعکس سولر سسٹم سے بجلی بنانے والوں کیخلاف بڑا فیصلہ
-
ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ متوقع ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی نےعوام کو خوشخبری سنا دی
-
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے گاڑی کی خرید و فروخت میں بڑی سہولت کا فیصلہ
-
این ڈی ایم اے نے ملک میں بارشوں اور برفباری کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا
-
آئی فون صارفین کیلئے خوشخبری حکومت نے ٹیکس میں بڑی کمی کردی
-
سائنسدانوں نے لمبی عمر کا راز دریافت کرلیا
-
شیفالی کی موت کیسے ہوئی شوہر نے سچائی سے پردہ اٹھا دیا
-
بسنت کیلئے چار دن چھٹی اور سکولوں کی چھتوں کی نیلامی کا فیصلہ
-
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر مزید بڑھ گئی














































