بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے جوہری تنصیبات تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی،بھارتی اخبار

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ 1983میں اندرا گاندھی نے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملے کا منصوبہ پاکستان کی طرف سے سخت دھمکی کے بعد ختم کردیا تھا۔پاکستان نے بھارت کی جوہری تنصیبات کو اڑانے کی دھمکی دی تھی اور یہ دھمکی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئر میں منیر احمد خان نے بھارتی جوہری بم کے بانی کو ویانا میں دی تھی۔حملے کے منصوبہ ساز اسرائیلی اور بھارتی پاکستانی دھمکی کے بعد پریشان ہوگئے تھے۔”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ 1983 ءمیں پاکستان کے جوہری تنصیات کو بم سے تباہ کرنے کے بھارتی منصوبے کو روکنے کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ بھارتی جوہری بم کے بانی راجہ رمننا تھے۔ رمننا 24 ستمبر 2004 کو ممبئی میں انتقال کرگئے تھے۔1987 اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین کے طور پر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد نجی گفتگو میں دو مواقع پررمننا نے اخبار سے اس منصوبے کو روکنے کی تصدیق کی تھی۔اخبار نے یہ رپورٹ سی آئی اے کے اس دعویٰ کے بعدجاری کی جس میں کہا گیا کہ 1980میں اندرا گاندھی نے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے پر غور کیا تھا۔ اخبار کے مطابق اگرچہ رمننا نے تفصیلات میں جانے سے انکار کردیا تھا،اس نے بتایا تھا کہ1983میں جب وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے اجلاس میںشرکت کیلئے ویانا میں موجود تھے تو اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئر میں منیر احمد خان نے انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو پاکستان جواب میں بھارت کے جوہر ی پروگرام کے مرکز ممبئی میں بارک ،ٹرومبک پر حملہ کرے گا۔رمننا نے فوری طور پر پاکستان کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے خطرناک نتائج کے بارے میں اندرا گاندھی کو مطلع کیا اورآپریشن روک دیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق کہانی یوں تھی اس وقت منیر احمد خان اجلاس میں شرکت کے لئے ویانا میں ہی موجود تھے تو انہیں ویانا میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالستار کی جانب سے بھارت کے منصوبوں کے بارے ایک خفیہ کوڈڈ پیغام ملاجس کے فوری بعداسی رات خان نے رمننا کو امپیریل ہوٹل میں ڈنر پر مدعو کیااور دونوں حریفوں نے کچھ دیر بات کی پھر وہ لمحہ آ پہنچا جب خان نے یہ کہنے کا فیصلہ کیا کہ انہوں نے اچانک کیوں ڈنر کی دعوت دی۔ یہ یادوں کے تبادلہ کے لئے دعوت نہیں تھی بلکہ بارک پر جوابی حملہ کے بارے پاکستان کی طرف سے ایک سخت انتباہ دینا تھا۔اخبار کے مطابق رمننا بھارتی حملے کی منصوبہ بندی سے آگاہ تھا یا نہیں ،لیکن ویانا سے واپسی پر وہ فوراً اندرا کے پاس گیا اورمنیر خان کی وارننگ پہنچائی اور یوں منصوبہ سمیٹ لیا گیا۔ ایڈرین لیوی اور کیتھرین سکاٹ کلارک کی کتاب”جوہری دھوکہ“ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 1981میںاسرائیل کی طرف سے بغداد کی جوہری تنصیبات کی تباہی کے بعد بھارت نے بھی پاکستان کی جوہری تنصیبا ت پر حملے کا منصوبہ بنایا اور اس منصوبے کا کوڈنام ”اوسیراک کانٹی جینسی“ تھا۔اس آپریشن کے سربراہ بھارتی فضائیہ کے سابق چیف دلباغ سنگھ تھے جس نے جاگوار اسکوڈرن کو دو ہزار پونڈ بموں کے ساتھ نچلی سطح پر پرواز کرنے کا حکم دیا تھا، ایک سکواڈرن جام نگر ائیر فورس بیس پر متبادل کے طور پر رکھا گیا جو ایک لمحے کے نوٹس پر حملہ کرے گا۔جب سی آئی اے کوبھارتی منصوبہ بندی کا اشارہ ملا تو اس نے امریکی انتظامیہ کو الرٹ کیا، امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کو اس وقت ایک سخت پیغام دیا کہ اگر بھارت بضد رہتا ہے تو امریکا اس کاجواب دے گا۔رمننا کا گاندھی کو منیر خان کی طرف سے پیغام اور امریکی وزارت خارجہ کا انتباہ نے اندرا گاندھی کو اس منصوبے کو لپیٹنے پر مجبور کیا جس سے بھارتی اور اسرائیلی منصوبہ ساز پریشان ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…