پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

چندہ اکٹھا کرنے والی این جی اوز کے جامع کوائف طلب

datetime 26  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں سے اُن غیر سرکاری تنظیموں سے متعلق جامع تفصیلات طلب کر لی ہیں جو متعقلہ اداروں میں رجسٹرڈ نہ ہونے کے باوجود لوگوں سے چندہ اکٹھا کر رہی ہیں۔بدھ کو چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔عدالت کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ لوگوں سے اکٹھا کیا جانے والا چندہ کن مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔حکومت کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بارے میں ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا نیشنل ایکشن پلان کو پورے طریقے سے نافذ کرنے کا کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی وہ بادی النظر میں اس کی اہلیت رکھتی ہے۔حکومت ٹیکس دینے والوں کے خلاف تو بہت جلد کارروائی کرتی ہے لیکن کالا دھن اور چندہ اکٹھا کرنے والوں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کرتی۔ بہت سے کالعدم تنظیمیں بھی مختلف ناموں سے لوگوں سے چندہ اکٹھا کر رہی ہیں لیکن ابھی تک عدالت میں ایسی کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی کہ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ حکومت سے غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار اور انھیں دیگر ممالک سے ملنے والی فنڈنگ سے متعلق جواب مانگا گیا تھا لیکن ابھی تک تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک سے ان غیر سرکاری تنظیموں کے لیے آنے والی فنڈنگ روک دی جائے تو ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ایک غیر معروف این جی او کو تین کروڑ روپے دیے گئے لیکن حکومت کے کسی بھی ادارے نے یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ دیکھا جائے کہ اس تنظیم کو اتنی بڑی رقم کن مقاصد کے لیے دی گئی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں اچھا کام کر رہی ہیں لیکن حکومت کے پاس احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں ایک مانٹیرنگ کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو ان تنظیموں کے بارے میں شکایات کا جائزہ لے کر ان کا ازالہ کرے گیبینچ میں موجود جسٹس قاضی فائض عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف تو بہت جلد کارروائی کرتی ہے لیکن کالا دھن اور چندہ اکٹھا کرنے والوں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کرتی۔
اُنھوں نے کہا کہ بہت سے کالعدم تنظیمیں بھی مختلف ناموں سے لوگوں سے چندہ اکٹھا کر رہی ہیں لیکن ابھی تک عدالت میں ایسی کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی کہ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
مقدمے کی مزید سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
خیال رہے کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گذشتہ ماہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کی لیے ایک شفاف نظام لایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ایک مانٹیرنگ کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو ان تنظیموں کے بارے میں شکایات کا جائزہ لے کر ان کا ازالہ کرے گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…