جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

فوج کی ڈگڈگی پر ناچنے والے ، عاصمہ جہانگیر کے بیان نے آگ لگادی

datetime 26  اگست‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک)سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ سیاسی حلقوں میں بندر بیٹھے ڈھول بجا رہے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ فوجی ملک کو نہیں چلا سکتے، فوج کی ڈگڈگی پر ناچنے والے سیاستدانوں کو قوم معاف نہیں کریگی ،پہلے ہی ملک میں نیم مارشل لاءلگ چکا ہے،سیاستدانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں،فیصلہ حق میں آنے پر عمران خان جشن اور خلاف آنے پر کہتے ہیں کہ میں سویلین اداروں کو نہیں مانتا ،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122کے فیصلے پر کسی کو بھی بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے احاطہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف ایاز صادق کے پاس سپریم کورٹ جانے کا حق موجود ہےتاہم فیصلے پر مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف سمیت کسی کو بھی بغلیں نہیںبجانی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اوروفاق کے وزراءکی طرف سے الیکشن ٹربیونل کے جج کو تنقید کا نشانہ بنانا تشویشناک اقدام ہے تاہم ٹربیونل کے جج کاظم علی ملک کو بھی میڈیا میں انٹرویو نہیں دینا چاہیے تھا، جج کا کام نہیں کہ وہ میڈیا پرانٹرویودیتا پھرے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے حق میںفیصلہ آئے تو عمران خان ڈھول بجاتے ہیں اور اگر فیصلہ خلاف آئے تو کہتے ہیں کہ میں سویلین اداروں کو نہیں مانتا ہے، ایسے ملک نہیںچلے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات پہلے ہی خراب ہیں، پہلے ہی ملک میں نیم مارشل لاءلگ چکا ہے ۔سیاستدانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی حلقوں میں بندر بیٹھے ڈھول بجا رہے ہیں ،تاریخ گواہ کے فوجی ملک کو نہیں چلا سکتے، فوج کی ڈگڈگی پر ناچنے والے سیاستدانوں کو قوم معاف نہیں کریگی۔عاصمہ جہانگیر کے بیان پر سیاسی و سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو جی میں آئے بول دیاجائے وکیل محترمہ کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے بات چیت کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…