پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

فوج کی ڈگڈگی پر ناچنے والے ، عاصمہ جہانگیر کے بیان نے آگ لگادی

datetime 26  اگست‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک)سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ سیاسی حلقوں میں بندر بیٹھے ڈھول بجا رہے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ فوجی ملک کو نہیں چلا سکتے، فوج کی ڈگڈگی پر ناچنے والے سیاستدانوں کو قوم معاف نہیں کریگی ،پہلے ہی ملک میں نیم مارشل لاءلگ چکا ہے،سیاستدانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں،فیصلہ حق میں آنے پر عمران خان جشن اور خلاف آنے پر کہتے ہیں کہ میں سویلین اداروں کو نہیں مانتا ،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122کے فیصلے پر کسی کو بھی بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے احاطہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف ایاز صادق کے پاس سپریم کورٹ جانے کا حق موجود ہےتاہم فیصلے پر مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف سمیت کسی کو بھی بغلیں نہیںبجانی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اوروفاق کے وزراءکی طرف سے الیکشن ٹربیونل کے جج کو تنقید کا نشانہ بنانا تشویشناک اقدام ہے تاہم ٹربیونل کے جج کاظم علی ملک کو بھی میڈیا میں انٹرویو نہیں دینا چاہیے تھا، جج کا کام نہیں کہ وہ میڈیا پرانٹرویودیتا پھرے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے حق میںفیصلہ آئے تو عمران خان ڈھول بجاتے ہیں اور اگر فیصلہ خلاف آئے تو کہتے ہیں کہ میں سویلین اداروں کو نہیں مانتا ہے، ایسے ملک نہیںچلے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات پہلے ہی خراب ہیں، پہلے ہی ملک میں نیم مارشل لاءلگ چکا ہے ۔سیاستدانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی حلقوں میں بندر بیٹھے ڈھول بجا رہے ہیں ،تاریخ گواہ کے فوجی ملک کو نہیں چلا سکتے، فوج کی ڈگڈگی پر ناچنے والے سیاستدانوں کو قوم معاف نہیں کریگی۔عاصمہ جہانگیر کے بیان پر سیاسی و سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو جی میں آئے بول دیاجائے وکیل محترمہ کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے بات چیت کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…