جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

شجاع خانزادہ کی شہادت کے واقعہ کے ماسٹر مائنڈ کا پتا لگالیا گیا

datetime 18  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)اتوار کو دہشت گردی کے نتیجے میںپنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ سمیت دیگر لوگوں کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی اورواقعے کے ماسٹر مائنڈ کا پتا لگا لیا گیا ہے۔روزنامہ جنگ کے صحافی سیدعارفین کی رپورٹ کے مطابق معتبر سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ حملہ ایک کالعد م تنظیم نے ہی کرایا ہے مگر اس کیلئے اسے دوسری کالعدم جماعت کی حمایت بھی حاصل تھی۔دہشت گرد حملے کی معاونت ایک کالعد م تنظیم نے کی اور خود کش حملہ آور بھی اسی تنظیم کے کمانڈر نذیر نے مہیا کئے تھے جن کا بظاہر تعلق خیبر پختونخوا سے لگتا ہے۔تاہم حتمی فیصلہ نادرا کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔فرانز ک رپورٹ بتاتی ہے کہ اس خودکش حملے کے لئے 15 کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ ایک کالعد م تنظیم کے اہم کمانڈر مطیع الرحمن نے اہم کردار ادا کیا تھا۔مطیع الرحمن کے سر کی قیمت حکومت پاکستان نے 1 کروڑ روپے مقرر کی ہوئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق شجاع خانزادہ پر ہونے والاحملہ پنجاب میں ہونے والے دیگر چار حملوں سے مماثلت رکھتا ہے۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کو اس لئے نشانہ بنایا کیونکہ پنجاب حکومت کی جانب سے کی جانے والی نیشنل ایکشن پلان اور دیگر دہشت گرد کارروائیوں کی تفصیلات شجاع خانزادہ ہی میڈیا کے سامنے آکر پیش کرتے تھے۔ سیکورٹی ذرائع نے انکشاف کیا کہ شجاع خانزادہ کو حال ہی میں کوئی دھمکی یا کسی دہشت گرد حملے کی وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت اور پولیس افسران کے بارے میں عمومی وارننگ کا اجراء ضرورکیا گیا تھا ۔ایک سوال کے جواب میں سیکورٹی ذرائع کا کہناتھا کہ اس حملے کے پیچھےایک کالعد م تنظیم ملوث نظر نہیں آتی کیونکہ اس تنظیم کو پنجاب میں بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور وہ فوری طور پر اتنا بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔کچھ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اس حملے کی ذمہ داری ایک کالعد م تنظیم تاہم یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ۔ رواں سال 13 مئی کو کراچی میں صفوراچورنگی کے قریب اسماعیلیوں کی بس پر حملہ کیا گیاتھا۔اس حملے کی ذمہ داری ایک کالعد م تنظیم نے قبول کی تاہم کچھ دن بعد جب اصل ملزمان گرفتار ہوئے تو پتا چلا کہ یہ حملہ داعش کے لئے کام کرنے والے گروپ نے کیا تھا۔ –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…