جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کو دھرنے کے بعد پےدرپے6 انتخابی شکستوں کا سامنا

datetime 17  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی دارالحکومت کے ڈی چو ک میں 2014کے دھرنے کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کو چھ مرتبہ انتخابی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، پی ٹی آئی دھرنے کے خاتمے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ہونیوالے ضمنی انتخابات میں6مرتبہ بلواسطہ یا بلاواسطہ حصہ لیا لیکن ہر دفعہ ہی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ گزشتہ برس تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کا الزام لگاکر دیئے جانیوالے 2013کے انتخابات کے خلاف دھرنے کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کی شکستوں میں اضافہ ہوا۔ روزنامہ جنگ کے صحافی احمد نورانی کی ایک مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کو 4 قومی اسمبلی کی نشستوں اورصوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر ہونیوالے ضمنی انتخاب میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ان نشستوں میں این اے 137ننکانہ صاحب، این اے 246 کراچی، این اے 108 منڈی بہاؤ الدین، این اے 19، ہری پور، پی پی 196 ملتان اور پی پی 100 گوجرانوالہ شامل ہیں۔ ملک کے اعلیٰ ترین ججوں مشتمل عدالتی کمیشن پہلے ہی تحریک انصاف کی جانب سے گزشتہ انتخابات میں لگائے جانیوالے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرچکا ہے۔ رکن اسمبلی کی موت پر 15مارچ 2015 کو این اے 137میں ضمنی انتخاب ہوا، جس میں ن لیگ کی امیدوارشذرہ منصب کامیاب ہوئیں۔ 24 اپریل 2015کواین اے 246 پر ہونیوالے ضمنی انتخاب میں ایم کیوایم کے امیدوار کنور نوید جمیل کامیاب قرار پائے، 21مئی 2015 کو پی پی 196میں ہونیوالے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے رانا محمود الحسن کو فتح نصیب ہوئی، 8جون 2015 کو این اے 108میں ہونیوالے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار ممتا ز احمد تارڑ کو کامیابی ملی۔ 26جولائی 2015 کو پی پی 100کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار رانا اختر علی نے تحریک انصاف کے امیدواراحسان اللہ کو شکست دی۔ 16اگست 2015کو این اے 19کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی پوری قیادت نے انتخابی مہم چلائی لیکن فتح ن لیگ کے بابر نواز نے تحریک انصاف کے راجہ عامر زمان کو شکست دیدی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…