فیصل آباد (آن لائن) پارٹی پالیسی کے خلاف بیان بازی کرنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا وزیراعظم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور لاہور سے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور مسلم لیگ ن کے سینٹرل کمیٹی کے رکن چوہدری شیر علی سابق ایم این اے سے جواب طلب کیا جائے۔ آن لائن کے مطابق گزشتہ دنوں یوم آزادی کے دو مقامی رہنماﺅں کے الگ الگ جلسوں میں مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری شیر علی اور ان دیگر ساتھیوں نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم سے فیصل آباد میں دہشت گردی کر کے 20 بااثر افراد کے قتل کرانے کے الزام میں تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اسی دوران غلام محمد آباد میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور اس کے دیگر ساتھیوں نے اپنے جلسہ میں چوہدری شیرعلی پر دماغی توازن کھو جانے کے ساتھ ساتھ بعض ممبران اسمبلی سے مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام عائد کیا تھا چنانچہ ان بیانات کی باز پرس پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے خوب تشہیر کی جس پر وزیراعظم نواز شریف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان رہنماﺅں کی سخت باز پرس کرنے کا وزیراعلیٰ کو حکم دیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے نومبر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے سلسلہ مین مسلم لیگ ن فیصل آباد میں واضح طور پر دھڑے بندی کا شکار ہو گئی ہے ایک دھڑے کی قیادت وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی کے والد چوہدری شیر علی سابق ایم این اے اور رانا محمد افضل چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی قومی اسمبلی اور ان کے دیگر ساتھی کر رہے ہیں جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور میاں عبدالمنان ایم این اے اور ان کے ساتھی ممبران اسمبلی کر رہے ہیں اور دونوں دھڑوں کی کوشش ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی اپنی پسند کے امیدواروں کو کامیاب کرا کے میونسپل کارپوریشن کی میئر اور ڈپٹی میئر کے ساتھ ساتھ ضلع کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا عہدہ اپنے خاص اور چہیتے رشتہ داروں کو حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس بلدیاتی اقتدار حاصل کرنے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے دونوں دھڑے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم کی ہدایت پر اس معاملے کو سلجھانے کے لئے لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن پرویز ملک کو فیصل آباد بھیجا تھا جنہوں نے دونوں دھڑوں کے ارکان سے الگ الگ ملاقات کر کے صلح کرانے کی کوشش مگر وہ ناکام رہے چنانچہ اب ان رہنماﺅں نے کھلے عام جلسوں اور کارنر میٹنگوں میں اپنی ہی جماعت کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ وزراءکے خلاف کرپشن کے الزامات عائد کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ جس سے شہر بھر میں مسلم لیگ ن اور ان کے ممبران کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے چنانچہ اس وجہ سے وزیراعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ان رہنماﺅں کو متنبہ کی ہے کہ ان رہنماﺅں نے پارٹی ڈسپلن کی آئندہ خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بیان جاری کیا تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
پارٹی پالیسی کے خلاف بیان بازی پر وزیراعظم نے نوٹس لے لیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسلام آباد کی مسجد میں حملہ کرنیوالے خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش، محکمہ موسمیات کا شہریوں کو الرٹ جاری
-
وزارت خزانہ نے گریڈ 1تا15 کے سرکاری ملازمین کو خوشخبری سنا دی
-
متحدہ عرب امارات کا پاکستانیوں کیلئے ورک ویزے سے متعلق بڑا اعلان
-
متنازع مواد دیکھ کر شہریوں نے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جو فوراً وائرل ہوگئیں
-
عمران خان پر حملے کے مجرم کو مزید سزا سنادی گئی
-
سعودی عرب میں پہلاروزہ کب ہوگا، ماہرین فلکیات نے بتا دیا
-
عرب حکمرانوں کی شکار کیلئے پاکستان آمد، مقامی زمینداروں اور انتظامیہ کی اوچھی حرکات سابق آئی جی ذو...
-
پاکستان میں پہلا روزہ کب متوقع ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار سے زائد کی کمی
-
اسلام آباد میں خود کش دھماکا، متعدد افراد زخمی، ہلاکتوں کا خدشہ
-
نوشکی،احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا
-
نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کے اجرا بارے گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم اعلان
-
نئے کرنسی ڈیزائن نوٹ عید پر دستیاب ہوں گے یا نہیں؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا



















































