اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پہاڑوں کا سینہ چیر کر سونا ،تانبا نکالنے والے ملازمین کے حالات زندگی

datetime 15  اگست‬‮  2015 |

دالبندین(نیوزڈیسک)جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے سیندک پراجیکٹ کے ملازمین کے احتجاج کو صوبائی حکومت کے لیئے سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہاڑوں کا سینہ چیر کر سونا اور تانبا نکالنے والے ملازمین طویل عرصے سے معیاری خوراک اور مناسب تنخواہوں سے محرو م ہیںجو قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت فراریوں کو پہاڑوں سے اتار کر انھیں پیسوں کا لالچ دینے پر خوش ہے لیکن کسی نے یہ نہیں سوچاکہ نوجوان پہاڑوں پر گئے کیوںہیں؟ان خیالات کا اظہار انہوں نے دالبندین کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس کے دوران حافظ حسین احمد نے کہا کہ ریکوڈک کے معاملے میں ڈاکٹر مالک صاحب انگلینڈ کے چکر کاٹتے رہتے ہیں لیکن یہاں سیندک پراجیکٹ کی درجہ چہارم کے محنت کش ملازمین کو ان کا بنیادی حق تک نہیں ملتاتو پھر بلوچستان کے ناراض نوجوان کیسے یقین کر لیں کہ صوبے کی عوام کو جائز حقوق ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیندک پراجیکٹ سے چاغی کو کوئی فائدہ نہیں ملا جس کی واضع مثال یہ ہے کہ ضلع چاغی کے لوگ آج بھی پانی ، بجلی اور زندگی کے دیگر سہولیات کے لیئے ترستے ہیں جس کے سبب محرومیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیندک پراجیکٹ میں کام بھی ہماری جدوجہد سے شروع ہوئی اس لیئے ہمیشہ ہمارا یہ مطالبہ رہا کہ صوبوں کو ان کے وسائل کا پورا حق ملنا چاہیے کیونکہ بلوچستان کا اصل مسئلہ بھی وسائل پر اختیار نہ دینا ہے جس کی بناءپر نوجوان ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر چلے گئے ۔اس لیئے جب تک بلوچستان کی عوام کو ان کے ساحل اور وسائل پر مکمل اختیار نہیں دیا جاتا یہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہو سکیں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جے یو آئی(ف) بلوچستان سمیت ملک بھر کے مظلوم عوام اور پسے ہوئے طبقات کی حقوق کے لیئے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر جدوجہد کرے گی اور کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ عام لوگو ں کے حقوق پر شب خون مارے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…